زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 191
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 191 جلد اول آنے لگی کہ یہ لوگ ضرور دین سکھا دیں گے۔جب یہ صورت پیدا ہوئی اور امید لگی کہ وہ اسلام قبول کر لیں گے تو اس وقت مولویوں کو فکر پڑی کہ آریہ ان لوگوں کو لے جاتے تو بھی ہمارے ہاتھ سے گئے تھے اب اگر احمدی لے جائیں گے تو بھی ہمارے ہاتھ سے گئے اس لئے وہ ہماری مخالفت میں کھڑے ہو گئے۔وہ دین کی خاطر تو اس علاقہ میں گئے نہیں تھے اگر دین کی خاطر جاتے تو جب ملکانے ہمارے ذریعہ اسلام قبول کرنے لگے تھے وہ کہتے اگر یہ احمدیوں کے ذریعہ اسلام میں رہتے ہیں تو بھی رہیں، اور اگر ہمارے ذریعہ اسلام میں واپس آتے ہیں تو بھی آئیں۔مگر چونکہ ان کے مد نظر اسلام نہ تھا اس لئے وہ ہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔وہ دیہ بہ دیہہ گئے اور جا کر لوگوں کو کہا کہ احمدی تو آریوں سے بھی بدتر ہیں۔ان کی باتیں سننے اور ماننے کی بجائے تمہارا آریہ ہو جانا اچھا ہے۔گو ان لوگوں نے کہا کہ ہم تو ان میں کوئی بری بات نہیں دیکھتے اور نہ یہ ہمیں کوئی بری بات بتاتے ہیں مگر مولویوں نے کہا ان سے بات کرنا بھی کفر ہے اور یہ کفر بھی ایسا ہے کہ آریہ ہو جانے سے بدتر ہے اس لئے یا تو تم سب آریہ ہو جاؤ یا اگر اسلام پر قائم رہنا چاہتے ہو تو ان کو اپنے گاؤں سے نکال دو۔اس طرح یہ دوسرا فتنہ ہمارے لئے پیدا ہو گیا۔اس پر ہمیں ان لوگوں کو سمجھانا پڑا کہ ہم مسلمان ہیں ، خدا تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں، رسول کریم ﷺ کی رسالت کے قائل ہیں، قرآن کو مانتے ہیں۔پس پہلے وفد نے اگر ملکانوں کے دلوں سے یہ شبہات مٹائے کہ ہم تمہیں چھوڑ کر نہیں چلے جائیں گے تو دوسرے وفد نے یہ شکوک دور کئے کہ ہم تم لوگوں کو مسلمان بنانے آئے ہیں کا فر بنانے نہیں آئے۔پھر تیسر ا وفد جس وقت گیا اس وقت موقع تھا کہ اس کی ضرب کا اثر پڑے اور نتیجہ نکلے یعنی وہ لوگ اسلام قبول کر لیں کیونکہ ایسے سامان خدا تعالیٰ نے پیدا کر دیئے تھے۔تیسری سہ ماہی کے وفد کے روانہ ہونے کے وقت میں نے جو تقریر کی تھی اس میں الله