زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 190
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 190 جلد اول نہ صرف کیا جائے اور ان کے شکوک اور شبہات کو دور نہ کر دیا جائے۔دوسرے اپنا مذہب کوئی اس وقت چھوڑتا ہے جب تقویٰ و طہارت، عفت اور خوف خدا اس کے دل سے بالکل مٹ جاتا ہے اور طمع ولالچ ، حرص و ہوا اس کے دل پر پورا پورا قبضہ کر لیتی ہے اور وہ انسانیت سے خارج ہو کر درندہ بن جاتا ہے۔پس ایسا انسان بھی جس کے سینہ سے ایمان نکل جاتا ہے اور لالچ و حرص کے سامان اس کو اپنی طرف بلا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف وہ سامان بھی نہ ہوں تو وہ اس وقت تک واپس نہیں آ سکتا جب تک یا تو اس کی طرف سے بہتر لالچ اور طمع کے سامان اس کے لئے نہ مہیا کئے جائیں اور یا اس کے اندر ایمان نہ پیدا کر دیا جائے۔بہر حال ملکانے ضرور اپنے پہلے دین کو برا سمجھ کر چھوڑتے تھے یا حرص اور لالچ کی وجہ سے چھوڑتے تھے دونوں صورتوں میں ان کا فور لوٹنا ناممکن تھا اس لئے جن لوگوں نے ان کے فور لوٹنے کی امیدیں لگائیں ان کی امیدیں چونکہ طبعی تقاضا کے خلاف تھیں اس لئے پوری نہ ہوئیں۔پہلا وفد جس وقت گیا اس وقت مشکلات ہی مشکلات تھیں۔پھر دوسرا وفد روانہ ہوا اس وقت بھی مشکلات تھیں گوان لوگوں سے کچھ نہ کچھ تعلقات پیدا ہو گئے تھے اور وہ سمجھنے لگ گئے تھے کہ یہ لوگ ہمیں چھوڑ کر نہیں چلے جائیں گے جس طرح اور مولوی آتے اور چکر لگا کر چلے جاتے تھے اور یہی بات ان کو مرتذ کر رہی تھی۔وہ کہتے تھے کہ جب ہمیں کوئی دین نہیں سکھاتا اور دنیا ہمارے پاس ہے نہیں اور ہندوؤں میں ملتی ہے تو ہم کیوں نہ ہندوؤں میں جاملیں۔ہمارے مبلغوں نے بتایا کہ کئی لوگ مرتد ہوئے مگر روتے روتے۔ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا دین تو اسلام ہی سچا ہے مگر ہم کو کسی نے نہیں سکھایا اور دنیا ہمیں ہندوؤں میں ملتی ہے اس سے کیوں روکتے ہو یہ تو لے لینے دو۔گویا وہ اپنے آپ کو مجبوری میں پاتے تھے اس لئے کہ دین کا تو ہمارے پاس کچھ ہے ہی نہیں اور جو چیز ملتی ہے اس سے روکا جاتا ہے۔مگر جب ہمارے آدمی گئے اور ان کو معلوم ہوا کہ اور لوگوں کی طرح یہ یونہی بھاگ جانے والے نہیں ہیں بلکہ مستقل رہنے والے ہیں تو ان کو خوشبو