زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 189

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 189 جلد اول میدان ارتداد میں مبلغین کی اشد ضرورت 5 نومبر 1923ء کو مبلغین کا ایک وفد علاقہ ارتداد کے لئے روانہ ہوا۔اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل نصائح فرمائیں۔اس دفعہ ملکانہ میدان کی طرف آپ لوگ جو جا رہے ہیں چوتھے وفد کے ہراول کے طور پر ہیں۔تیسرے وفد کے بعض لوگ جن کی مد میں پوری ہوگئی ہیں یا ہونے والی ہیں آپ لوگ ان کے قائم مقام بن کر جا رہے ہیں اور اب گویا 9 ماہ کے قریب اس کام کو شروع کئے ہو گئے ہیں جو علاقہ ملکانہ میں کیا جا رہا ہے۔پہلا وفد جب گیا تھا اُس وقت گو خدا تعالیٰ نے مجھے یہ بات بتادی تھی اور بارہا میں نے اس کو بیان بھی کر دیا تھا لیکن باقی جماعت میں اس کے متعلق احساس پیدا نہیں ہوا تھا کہ کب عظیم الشان طور پر ہمیں یہ کوشش کرنی پڑے گی اور اس کے لئے کتنی قربانیوں کی ضرورت ہوگی۔اُس وقت بہت لوگ تھے جو سمجھتے تھے کہ پہلی سہ ماہی میں ہی ہمیں فتح حاصل ہو جائے گی اور بعض تو ایسے جلد باز تھے کہ انہوں نے علاقہ ارتداد میں جانے کے 20، 25 دن ہی بعد خط لکھنے شروع کر دیئے کہ ہمیں اتنے دن کام کرتے ہو گئے ہیں مگر ابھی تک یہ لوگ ارتداد سے واپس نہیں ہوئے۔گویا وہ سمجھتے تھے کہ جاتے ہی ان کو مسلمان کر لیں گے اور اس میں کچھ بھی دیر اور وقت نہ لگے گا حالانکہ جو لوگ اپنا مذ ہب بدلتے ہیں وہ دو حالتوں کے بغیر نہیں بدلتے۔اول تو یہ کہ یا تو ان کو یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ فلاں مذہب سچا ہے اس لئے اس کو قبول کر لیتے ہیں۔ایسے لوگ بحیثیت قوم اس وقت تک واپس نہیں لوٹ سکتے جب تک ان کے لئے پورا زور