زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 186

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 186 جلد اول اتنا غصہ نہ دکھاؤ ہم تصفیہ کر دیں گے لیکن انہوں نے کہا اس میں چونکہ ہماری ہتک کی گئی ہے اس لئے جب تک یونان والے ہماری شرائط نہ مانیں گے ہم نہیں چھوڑیں گے۔اس میں شبہ نہیں کہ اٹلی والوں نے حد سے زیادہ تیزی دکھائی ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ یہ ان کی زندگی کی علامت ہے اور انہوں نے یونان سے حسب منشاء شرطیں منوالی ہیں۔اسلامی سلطنت کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے۔معتصم باللہ کے زمانہ کا ذکر ہے۔مسلمان عورت کو ایک عیسائی بادشاہ دکھ دے رہا تھا اور طنزاً کہہ رہا تھا کہ دیکھو معتصم باللہ ابلق گھوڑے پر سوار تمہاری مدد کو آرہا ہے۔یہ بات ایک مسلمان نے سنی اور جا کر بادشاہ کو بتائی۔اُس وقت اگر چہ بادشاہت کو تنزل تھا مگر بادشاہ نے کہا کہ میں ابھی اس عورت کو بچانے کے لئے جاؤں گا۔آدمیوں کو چلنے کا حکم دے دیا اور کہا سب ابلق گھوڑوں پر سوار ہوں۔اس کے اپنے گھوڑے کا رنگ ابلق تھا اسی کی طرف عیسائی نے اشارہ کیا تھا۔بادشاہ نے کہا ابلق گھوڑوں پر ہی سوار ہو کر وہاں جائیں گے۔پس لشکر گیا اور جا کر اس عورت کو چھڑالا یا۔دیکھو ایک عورت کے لئے اور وہ بھی اُس زمانہ میں جب کہ مسلمان عیش و عشرت میں پڑے ہوئے اور تنزل میں گرے ہوئے تھے اس قدر غیرت دکھلائی تو کیا وہ قوم جو ایک نبی کی امت کہلاتی اور دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑی ہوئی ہے وہ ایک قوم کے لئے غیرت نہ دکھلائے گی ؟ ایک تازہ واقعہ ہوا ہے۔ایک رپورٹ آئی ہے کہ ایک جگہ آریوں نے شدھی کا دن مقرر کیا اور وہاں گھی وغیرہ سامان پہنچا دیا۔جن لوگوں نے مرتد ہونا تھا ان کے گھرانہ کی ایک عورت اس بات پر مُصر تھی کہ میں مسلمان ہی رہوں گی۔جب سامان آ گیا تو مقررہ دن گھر والے گھبرائے کہ اگر یہ عورت مرتد نہ ہوئی تو ہماری بدنامی ہوگی۔آگے کوئی کہتا ہے کہ وہ کچھ کھا کر مرگئی اور کوئی کہتا ہے کہ اسے ان لوگوں نے مار مار کر مار دیا۔اگر وہ کچھ کھا کر مری ہے تو گو اسلام میں خودکشی گناہ ہے مگر اسی کے لئے جو اس بات کو جانتا ہو۔وہ بیچاری کہاں جانتی ہوگی۔پس اگر اس نے زہر بھی کھایا ہے تو بھی اس نے اسلام کے لئے