زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 187

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 187 جلد اول جان دی اور اگر مار مار کر مار دیا گیا تو بھی ان بہت سے مسلمانوں سے بہتر ہی رہی جو گھر بیٹھے رہے اور فتنہ ارتداد کے مقابلہ کے لئے نہ نکلے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقہ ملکانہ میں ایسی روحیں ہیں جو اسلام کے لئے جان دے رہی ہیں اور ان کا بچانا ہمارا فرض ہے۔اگر ایسی روح ایک بھی ہو مگر اب تو کئی ثابت ہو رہی ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ان کو بچائیں۔پس دوستوں کو یہ بہت اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ یہ اسلام کا سوال ہے۔اسی نظر سے اس کام کو دیکھنا چاہئے تاکہ اس کی اہمیت معلوم ہو۔اگر یہ بات سمجھ لی جائے تو میرا خیال ہے فتنہ ارتداد بہت جلد رک سکتا ہے۔اس کے بعد پھر میں ان دوستوں کو جو جانے والے ہیں کہتا ہوں کہ چونکہ یہ اسلام کا سوال ہے اس لئے اس کے لئے اسی رنگ میں قدم ڈالیں جو ضروری ہے اور ہر قسم کی کوتاہی سے بچیں کیونکہ ذراسی کو تاہی بھی بہت خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے۔آپ لوگ ہدایات کو پڑھیں اور بار بار پڑھیں اور خصوصیت سے دعاؤں پر زور دیں کیونکہ خدا تعالی دعا کرنے پر ایسے ایسے سامان کامیابی کے پیدا کر دیتا ہے جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔چونکہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ سب سے بڑا ہے اس لئے کوئی طاقت اس کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی جس کے ساتھ خدا کا ہاتھ ہو۔چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اس لئے وہ خود مددی کرے گا اور غیب سے ایسے سامان کر دے گا جو وہم میں بھی نہیں آسکتے۔دیکھو! احمدیت کی اشاعت کے کیسے کیسے سامان خدا تعالیٰ کر رہا ہے۔بخارا میں پتہ لگا کہ وہاں جماعت ہے۔اب پتہ لگا ہے چین میں بھی احمدی جماعت ہے اور آج ایک جزیرہ کے متعلق خط آیا ہے کہ وہاں کا ایک آدمی آیا ہے جس نے بیان کیا کہ وہاں بڑی جماعت کی ہے مگر حکومت کے ڈر کی وجہ سے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کر سکتی۔کوئی مدراسی اس جزیرہ میں گیا تھا جس کے ذریعہ احمدیت کا علم ان لوگوں کو ہوا اور وہ لوگ عقائد سے بھی خوب واقف ہیں ختی که مسئلہ نبوت کے متعلق جو اختلاف ہوا اس سے بھی گویا ان لوگوں کو جو آدمی ملاوہ پیغامی اختلاف کے بعد ملا۔