زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 184

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 184 جلد اول یہ فرض ہے کہ جو کچھ بتایا جائے اسے سمجھے اور اس کے مطابق کام کرے۔پس سب سے بڑی نصیحت یہی ہے کہ جو ہدایات تمہیں دی گئی ہیں ان پر عمل کرو۔اس کے بعد میں جانے والوں کو اور دوسروں کو جو بیٹھے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ دین کا معاملہ ایسا اہم معاملہ ہے کہ اس کے لئے مومن کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا۔دیکھو جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا اور آج بھی خطبہ میں بیان کیا ہے علاقہ ارتداد میں ملکانوں کا سوال نہیں بلکہ اسلام کا سوال ہے۔جس قد ر مرتد ہو چکے ہیں ان سے زیادہ تعداد میں مسلمان عیسائی ہو کر گمراہ ہو چکے ہیں مگر اس پر اس قدر حیرت اور استعجاب نہیں ہوا۔وجہ یہ ہے کہ وہ افراد عیسائی ہوئے ہیں اور یہ ایک قوم مرتد ہورہی ہے جس سے يَدْخُلُونَ فِي دِینِ اللهِ أَفْوَاجًان کی بجائ يَخْرُجُونَ مِنْ دِيْنِ اللَّهِ أَفْوَاجًا کا نظارہ ہے اور اس طرح وہ رعب جس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرما یا نصِرْتُ بالرُّعْب 4 کہ مجھے رعب سے مدد دی گئی ہے اس کے مٹنے کا ڈر ہے۔رسول کریم ﷺ کے رعب سے مراد آپ کے مذہب اور آپ کی امت کا رعب ہے نہ یہ کہ آپ کی ذات کا رعب۔اگر یہ ہوتا تو آپ کا ذاتی رعب ہو جاتا اور ذاتی رعب تو اور لوگوں کو بھی حاصل تھا۔کیا سکندر کا رعب اپنے زمانہ میں نہ تھا اور کیا اب انگریزوں کا رعب نہیں ہے؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رعب سے مراد یہ تھی کہ آپ کو ایسا رعب دیا گیا جو آپ کی وفات کے بعد قائم رہے گا جو یہی ہے کہ آپ کے مذہب اور امت کا رعب ہے اور سوائے آپ کی ذات کے اور کونسا وجود ہے جو مر گیا ہو اور اس کا رعب قائم ہو۔سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور کسی کا نہیں۔آج بھی آپ کی تعلیم اور آپ کے مذہب سے دنیا ڈر رہی ہے۔یورپ اب بھی یہی کہتا ہے کہ بین اسلام ازم (Pan-Islamism) یعنی اتحاد اسلام سے ڈرنا چاہئے۔تو اسلام کا رعب اب بھی قائم ہے اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے جو اسلام کی تائید میں دیا گیا ہے۔لیکن اب اگر قوموں کی قومیں اسلام سے نکلنی شروع ہو جائیں تو یہ مفہوم ہو گا کہ مسلمانوں کی بداعمالی کی وجہ سے رعب مٹادیا گیا۔