زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 183

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 183 جلد اول اور دوستانہ تعلقات پیدا کرو۔مگر معلوم ہوا کہ بعض لوگ ایک گاؤں میں دو دو ماہ تک رہے اور جب انسپکٹر نے جا کر ان سے پوچھا تو کہہ دیا کہ یہاں کے چار پانچ آدمیوں سے واقفیت پیدا کی ہے۔گویا وہ صرف چار پانچ آدمیوں کو ہی تبلیغ کرتے رہے اور باقی سب کو نظر انداز کر دیا۔وہ مبلغ جو کسی گاؤں میں تبلیغ کے لئے مقرر کیا جاتا ہے وہاں کا اگر ایک آدمی بھی بلکہ ایک بچہ بھی ایسا رہ جاتا ہے جس کے ساتھ اس نے باتیں نہ کیں، واقفیت نہ پیدا کی تبلیغ نہ کی تو وہ کامیاب نہیں کہلا سکتا۔جہاں جہاں مبلغ بھیجے جاتے ہیں وہ کوئی شہر تو نہیں چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں اور اگر کوئی بڑا گاؤں ہو تو وہاں مبلغ بھی زیادہ رکھے جاتے ہیں اور اس طرح سو ڈیڑھ سو آدمی ایک مبلغ کے حصہ میں آتا ہے اتنے لوگوں سے جو شخص واقفیت نہیں پیدا کر سکتا وہ کام کیا کر سکتا ہے۔دیکھو باہر کے جو لوگ یہ خیال کر کے آتے ہیں کہ قادیان میں وہ لوگ رہتے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پائی ، آپ کے پاس رہے، دین کے لئے قربانیاں کر کے آئے اور سب کچھ چھوڑ کر خدمت کے لئے قادیان میں آبیٹھے ان سے ملیں اور تعارف پیدا کریں اور دو تین دن میں واقفیت پیدا کر کے چلے جاتے ہیں۔کیوں؟ اس لیے کہ یہ نیت کر کے آتے ہیں کہ ایسے لوگوں سے واقفیت پیدا کرنی ضروری اور فائدہ مند ہے۔اگر مبلغ بھی اسی طرح نیت کر کے دیہات میں جائیں تو ایک ہفتہ کے اندر اندر واقفیت کیا دوستی بھی پیدا کر سکتے ہیں۔یہ سخت غفلت ہے کہ ایک آدمی جائے ، اسے ہدایات دے دی جائیں جنہیں وہ لکھ لے یا یاد کر لے مگر وہاں جا کر ان پر عمل نہ کرے۔اگر کوئی شخص وہاں جاتا اور خموشی سے اپنا وقت گزار کر آجاتا ہے تو اس کے جانے کا کیا فائدہ۔پس سب سے ضروری بات یہ ہے کہ جو نصائح دی جائیں (امید ہے آپ لوگوں کو بھی ہدایات کی ایک ایک کاپی دے دی گئی ہوگی ) ان پر پورا پورا عمل کرو۔ہر ایک شخص ا یہ اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ سمجھ سکے کہ اسے کیا کام کرنا ہے اور کس طرح کرتا ہے۔یہ کام کرانے والوں کا فرض ہے کہ اسے بتائیں اس طرح کام کرتا ہے اور کام کرنے والے کا