زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 182
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 182 جلد اول تک کافروں پر غلبہ رہے گا تو معلوم ہوا قیامت تک کا فربھی رہیں گے اور جب کافر رہیں گے تو شیطان بھی رہے گا اس لئے اس سے جنگ بھی جاری رہے گی۔اس میں شک نہیں کہ مسیح موعود کے متعلق آیا ہے کہ وہ شیطان کو قتل کرے گا مگر اس کے معنی یہ ہیں کہ مسیح موعود شیطان کا زور توڑ دے گا۔عربی میں قتل کے معنے زور توڑ دینے کے بھی ہیں مثلاً شراب کو قتل کر دینے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس میں پانی ملا کر اس کے زور کو کم کر دیا۔پس مسیح موعود کے متعلق جو آتا ہے کہ شیطان کو قتل کرے گا اس کا یہ مطلب ہے کہ عیسائیت کے زور کو توڑ دے گا، عیسائیت کی بنیاد کو اکھیٹر دے گا۔اُس وقت عیسائی کہیں گے ہماری دنیاوی ترقی عیسائیت کی صداقت کا ثبوت ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں کہتے ہیں ایسی زبردست اور با حکومت قوم جو ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہے مسیح موعود کا یہ کام ہوگا کہ اس کے زور کو توڑ دے گا ورنہ کفر تو قیامت تک رہے گا۔پس ہم جنگ سے نہیں ڈرتے اور نہ ناممکنات کے لئے امیدیں لگاتے ہیں کیونکہ اس قسم کی امید رکھنا کفر ہے اس لئے ہم تو امید نہیں رکھتے کہ جنگ ختم ہو جائے بلکہ یہ امید رکھتے ہیں کہ جنگ کی نوعیت بدل جائے اور نوعیت بدلتی رہتی ہے جس سے اس میں حصہ لینے والوں کی ہمتیں بڑھتی رہتی ہیں۔دیکھو ایک قسم کا کھانا بھی انسان روز نہیں کھا سکتا کیونکہ انسان اکتا جاتا ہے۔اسی طرح ایک قسم کی جنگ بھی چونکہ اکتا دیتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ اس کی نوعیت بدلتا رہتا ہے۔آج اگر اس قوم سے جنگ ہے تو کل اور سے۔پس ہم امید رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس جنگ کی نوعیت کو بدل دے اور ہم اس علاقہ سے فارغ ہو کر کسی اور علاقہ میں جائیں۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جس کام کے لئے وہ چلے ہیں اس کے لئے اسی رنگ میں جب تک کوشش نہ کریں گے جو ضروری ہے اُس وقت تک کامیاب نہ ہوں گے۔پہلے دیکھا گیا ہے کہ جانے والے یہاں سے ہدایات نوٹ کر کے لے گئے مگر وہاں جا کر ان پر پورا پورا عمل نہیں کیا گیا۔میں نے سب سے ضروری نصیحت جانے والوں کو یہ کی تھی کہ جہاں اور جس مقام پر رہو وہاں کے لوگوں سے واقفیت