زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 181
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 181 جلد اول مجاہدین علاقہ ارتداد سے خطاب 14 ستمبر 1923ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مجاہدین علاقہ ارتداد کو جانے والے تیسرے وفد کو ضروری نصائح فرمائیں۔تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔" آج اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت ہماری جماعت کا تیسرا وفد یعنی تیسرے وقت کا وفد علاقہ ارتداد میں جا رہا ہے۔کہتے ہیں کہ تین کا عدد مکمل ہوتا ہے اس لئے کہ وہ طاق بھی ہوتا ہے اور پھر اپنے اندر اتحاد بھی رکھتا ہے۔طاق ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی ذات سے اشتراک رکھتا ہے اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے 1 تین کا عدد دونوں کو جمع رکھتا ہے۔تین وتر ہے اس لئے ایک سے مشابہ ہونے کی وجہ سے وحدانیت پر دلالت کرتا ہے۔اور اس میں دو بھی ہیں اور ایک بھی اس لئے اجتماع پر دلالت بھی کرتا ہے۔کیا تعجب ہے کہ اس تین پر ہی خدا تعالیٰ اس جنگ کا خاتمہ کر دے اور چوتھے وقت میں اس صورت میں وفد نہ بھیجنا پڑے۔یہ فال کے طور پر کہا گیا ہے ورنہ مومن کبھی یہ نہیں کہ سکتا کہ جنگ ختم ہو جائے کیونکہ مومن جب تک زندہ ہے جنگ چلی ہی جائے گی۔پس ہم یہ تو نہیں چاہتے کہ جنگ ختم ہو جائے اور کبھی بھی نہیں کہہ سکتے کہ جنگ ختم ہو گئی کیونکہ مسلمان کے لئے جنگ کے ختم ہو جانے کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ ہتھیار ڈالتا ہے ورنہ اس کی جنگ کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔وجہ یہ کہ مسلم کی جنگ شیطان سے ہے اور جب تک دنیا ہے شیطان بھی رہے گا۔چنانچہ آتا ہے جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِمَةِ 2 پس جب قیامت