زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 176
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 176 جلد اول کے اخراجات اتنے کئے جا رہے ہیں کہ جو سب بیرونی تبلیغی کاموں سے زیادہ ہیں۔سب نظارتوں کا تین ہزار کے قریب ماہوار خرچ کا اندازہ ہے۔مگر اس اکیلے کام کا اتنا خرچ ہے اور وہ بھی اس صورت میں کہ حسابات کی بڑی سختی سے نگرانی کی جاتی ہے اور مبلغ آنریری ہیں۔ادھر جماعت کی یہ حالت ہے کہ اس پر چندہ کا اتنا بار ہے کہ دنیا میں اس کی دوسری کوئی مثال نہیں پائی جاتی۔دوسرے لوگ بھی چندہ جمع کرتے ہیں مگر مستقل طور پر اتنا چندہ دیں جتنا ہماری جماعت مستقل طور پر دیتی ہے اس کی کوئی مثال نہیں پائی جاتی۔مگر باوجود اس کے ہماری جماعت جتنا چندہ دے رہی ہے وہ ہمارے کاموں کے لئے کافی نہیں۔اس کے لئے ہم جس قدر زور دے سکتے تھے دے چکے ہیں اس سے زیادہ جماعت میں برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔ایسی صورت میں اگر یہ انسانی کام ہوتا تو سوائے اس کے کہ جس طرح ایک چیز پر جب زیادہ بوجھ ڈالا جائے تو وہ اپنی طاقت کی آخری حد پر پہنچ کر پھٹ جاتی اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے یہی ہمارا حال ہو۔مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا کام نہیں بلکہ خدا کا کام ہے۔اور ہمارے نقصوں ، ہماری کمزوریوں اور ہماری بے سامانیوں کی وجہ سے خراب نہیں ہوگا بلکہ جب یہی بے سامانیاں اپنی آخری حد کو پہنچ جائیں گی تو خدا تعالیٰ کی خاص مدد اور نصرت نازل ہوگی۔کیونکہ خدا تعالیٰ جب دیکھے گا کہ ان کے پاس جو کچھ تھا انہوں نے دے دیا اور اب ان کے پاس کچھ نہیں تو میر اخزانہ جس میں کبھی کمی نہیں آسکتی اس کو ان کے لئے کیوں نہ کھول دوں۔انہوں نے جب سب کچھ کھو کر دین کی خدمت کی ہے تو میں سب کچھ رکھ کر کیوں نہ ان کی مدد کروں۔پس یہی وقت ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ کی خاص مدد نازل ہوتی ہے۔ہماری جماعت کے متعلق ہمیشہ یہی ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا جب تک خودی ، تکبر اور خودستائی نہ پیدا ہو گی اور جب تک ہم خدا کی رضا کے لئے کام کرتے رہیں گے۔میری خلافت کے اس آٹھ نو سال کے عرصہ میں کیسے کیسے خطرناک حملے پیغامیوں اور غیر احمد یوں نے کئے مگر جب یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ اب تباہ ہو جائیں گے اُسی وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی نصر