زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 174
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 174 جلد اول چاہے پاخانہ بھر لے مگر دوسرے کے گھر نہیں تھوکنا چاہئے۔کیونکہ ممکن ہے اس نہایت معمولی سی بات پر وہ ناراض ہو جائے حالانکہ تھوکنا نہایت خطرناک اور سخت مضر ہے۔لاکھوں ایسے انسان ہوتے ہیں جن کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ مسلول ہیں اور نہ دوسروں کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کو سل ہے مگر ان میں کیڑے ہوتے ہیں جو ان کی عمدہ صحت کی وجہ سے ان پر اپنا اثر نہیں کر سکتے مگر ان کے جسم سے نکل کر اوروں پر جو ان جیسے مضبوط نہیں ہوتے حملہ کر سکتے ہیں۔قادیان میں ہی ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ ایک شخص کی ایک بیوی کو سل ہوئی وہ فوت ہو گئی۔پھر دوسری آئی اس کو بھی سال ہو گئی۔جہاں سے وہ آئی تھی وہاں کسی کو سل نہ تھی نہ اس کے خاندان میں کسی کو سل تھی مگر خاوند کے ہاں آ کر وہ مسلول ہوگئی اور مرگئی۔پھر تیسری آئی اس کو بھی سل ہو گئی۔ایسے لوگوں کو جر مزکیریر (Germs Carrier) کہتے ہیں۔ان کی اپنی صحت تو اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ ان پر جرمز اثر نہیں کر سکتے مگر وہ تھوک کے ذریعہ دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں۔اب یہ ایک چھوٹی سی بات ہے مگر نتائج ایسے خطر ناک نکلتے ہیں کہ لاکھوں جانیں اس سے ضائع ہوتی ہیں۔پس بعض باتیں چھوٹی معلوم ہوتی ہیں مگر ان کے نتائج بہت بڑے نکلتے ہیں۔یہ ہدایات جو آپ لوگوں کو دی جاتی ہیں اس خیال سے دی جاتی ہیں کہ سب کو پڑھو اور یہ نہ دیکھو کہ ان میں سے چھوٹی کون سی ہے اور بڑی کون سی یہ سب ضروری ہیں۔اگر کوئی ضروری نہ ہوتی تو درج ہی نہ کی جاتی اور پہلے ہی چھوڑ دی جاتی۔یہ وہی رکھی گئی ہیں جن پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے ورنہ کامیابی محال ہے۔اس کے بعد میں دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہماری کامیابی کا ذریعہ دعا ہی ہے۔ان ہدایتوں میں بھی اس کا ذکر ہے۔مگر میں پھر کہتا ہوں کہ ہمارے پاس اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔لوگ کہتے ہیں اگر ایک دشمن ہو تو اس کا مقابلہ کیا جائے ، دو ہوں تو ان کا کیا جائے دس بیس کا کس طرح کیا جا سکتا ہمارے ہزار دو ہزار آدمی دشمن نہیں بلکہ جتنی جماعتیں اور جتنے فرقے ہیں اتنے ہی ہے۔