زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 158
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 158 جلد اول بادشاہ کی ایک چوڑھا اور چمار کرتا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کرو کیونکہ اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔اس کی پرواہ نہ کرو کہ افسرادنی ہے اور تم اعلیٰ ہو یا جو کام تمہیں دیا گیا ہے وہ ادنی ہے کیونکہ جو کام خدا کے لئے کرتا ہے اس کی شان نہیں کم ہوتی بلکہ خدا اس کو اٹھاتا ہے۔پس کسی کام کو دنیا نہ سمجھو اور کبھی افسر کی اطاعت سے منہ نہ موڑو یہاں تک کہ اپنی مدت گزار کر واپس آ جاؤ۔وہاں رہو، اطاعت کرو اور ہر ایک کام کرو جس کا تمہیں افسر حکم دے۔چوتھی نصیحت یہ ہے کہ لوگوں سے باتیں کرنے اور ملاقات کرنے کی عادت ڈالو۔یہ نہ ہو کہ ایک مقام پر مہینوں پڑے رہو اور وہاں کے لوگوں سے ملاقات بھی نہ کر سکو۔بعض دوست جو بہت لائق تھے مخلص بھی تھے اور دین سے واقف بھی تھے محض کم گوئی کے باعث لوگوں سے میل جول نہ بڑھا سکے۔اس کے مقابلہ میں یہاں کے ایک مستری ہیں جو پڑھے لکھے تو واجبی ہیں مگر ان کو یہ فن آتا ہے کہ ایسے طریق پر آریوں وغیرہ سے گفتگو کرتے ہیں کہ دشمن خاموش ہو جاتا ہے۔ایک مقام پر ہمارے ایک دوست مقیم تھے وہاں ایک مولوی صاحب گئے اور جس مسجد میں ہمارے دوست مقیم تھے اس کے مصلے پر کھڑے ہو گئے کہ نماز پڑھائیں۔ہمارے دوست نے ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی۔اس پر مولوی صاحب نے شور مچا دیا کہ یہ کافر ہے اس نے ہمارے پیچھے نماز نہیں پڑھی۔دوسرے گاؤں میں جب ہمارے ان مستری صاحب کو معلوم ہوا تو انہوں نے نہایت معقولیت سے موٹے طریق پر اس بات کو اس طرح لوگوں کے ذہن نشین کر دیا کہ مولوی صاحب کو حق ہی نہ تھا کہ وہ اس مسجد میں آکر نماز پڑھاتے جب کہ اس جگہ کا امام موجود تھا۔اسی طرح جس گاؤں میں وہ مقیم ہیں وہاں کچھ آریہ پر پچر (preacher) بھی گئے وہ کسی ضرورت سے گاؤں سے باہر گئے ہوئے تھے۔جب آریوں نے گفتگو کرنی چاہی تو گاؤں والوں نے کہا کہ ہمارے ایک بھائی ہیں جو باہر گئے ہوئے ہیں وہ آلیس جو وہ فیصلہ کریں گے اسی کے مطابق ہم عمل کریں گے۔ادھر گاؤں والوں نے ان کو بلوایا۔انہوں نے آکر پہلے تو کھانے وغیرہ کے متعلق آریوں سے پوچھا اور پھر گفتگو کرنی چاہی۔