زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 157
جلد اول زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 157 ہے اور اس وقت عورت کا یہ کہنا فضول ہوگا کہ پہلے کہتے تھے نمک زیادہ ہے اب کہتے ہیں کم ہے۔کیونکہ خاوند نے جب زیادہ نمک معلوم کیا تو زیادہ کہا اور جب کم معلوم کیا تو کم کہا۔پس جس طرح عورت کا اعتراض غلط ہے اسی طرح ” فساد نہ کرو۔“ کی تعلیم سے یہ نتیجہ نکالنا کہ بزدلی اختیار کرو غلط ہے۔فساد نہ کرو“ کے صرف یہ معنے ہیں کہ بلا وجہ لڑائی میں نہ پڑو لیکن اگر دین کے لئے جان دینے کی بھی ضرورت ہو تو اس وقت جان دینا ذلت اور فساد نہیں ہوگا۔کیا صحابہ فسادی تھے کہ ضرورت کے وقت جان دے دیتے تھے ؟ نہیں۔پس یا د رکھو کہ چونکہ ایثار و قربانی کے بغیر کبھی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔اس لئے کبھی کسی خطرے اور کسی بڑی سے بڑی قربانی سے نہ ڈرو۔آپ کبھی فساد نہ کھڑا کر وہاں اگر ایسے سامان ہو جائیں کہ جان کا خطرہ ہو تو جان کی پرواہ بھی نہ کرو۔ایسی حالت میں اپنی جگہ سے نہ ہٹنے پر خدا تمہاری حفاظت کرے گا۔بعض حالات میں غلطی سے لوگوں سے ایسا فعل سرزد ہوا ہے جس کا خواہ وہ کچھ نام رکھیں مگر وہ بزدلی نظر آتا ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔یاد رکھو بہادری کا نتیجہ ہمیشہ اچھا نکلتا ہے اور بزدل کوئی کام نہیں کر سکتا۔کسی جماعت اور کسی قوم نے ترقی نہیں کی جب تک اس نے بزدلی کو چھوڑ کر بہادری سے کام نہیں لیا۔انگریزوں کو دیکھو جنگلوں اور پہاڑوں میں بیس بیس سال گزار دیتے ہیں۔ایک امریکن نے ہمیں سال جنگل میں اس لئے گزار دیئے کہ وہ بندروں کی زبان دریافت کرے اور یہ معلوم کرے کہ آیا ان کے محض اشارے ہوتے ہیں یا ان اشاروں کے کچھ معنی بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ میں سال بندروں میں رہنے سے اس نے دریافت کیا کہ بندروں کی بھی زبان ہے۔جب ایک می ہیں سال محض اس غرض کے لئے جنگلوں اور بندروں میں گزار دیتا ہے کہ ان کی زبانی دریافت کرے تو کیا ہم خدا کے دین کی حفاظت اور تبلیغ کے لئے تین ماہ جنگلوں میں بسر نہیں کر سکتے۔وہ لوگ خواہ کچھ بھی ہوں مگر بندروں سے زیادہ تو غیر جنس نہیں۔خص تیسری نصیحت یہ ہے کہ تم اپنے افسروں کی کامل اور مکمل فرمانبرداری اختیار کرو خواہ تم اپنے آپ کو افسر سے اعلیٰ سمجھو لیکن اس کی اطاعت اسی طرح کرنی ہوگی جس طرح ایک