زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 150

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 150 جلد اول ضرورت ہو تو گیر دارنگ دلوالو۔یادرکھو کہ لباس کا تغیر اصل نہیں۔لباس کا تغیر اسی وقت برا ہوتا ہے جب انسان ریاء کے لئے یا کسی قوم سے مشابہت کی غرض سے پہنتا ہے۔تمہارا تغیر لباس تو عارضی ہو گا اور جنگ کی حکمتوں میں سے ایک حکمت ہو گا۔پس تمہارا طریق قابل اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ تم سادھو یا فقیر یا صوفی کہلانے کے لئے ایسا طریق اختیار نہیں کرو گے اور چند دن کے بعد پھر اپنا لباس اختیار کر لو گے۔اس لباس کی غرض تو صرف دشمن اسلام کے حملہ کا جواب دینا ہوگی۔(31) کبھی اپنے کام کی رپورٹ لکھنے اور پھر اس کو دفتر حلقہ میں بھیجنے میں ستی نہ کرو۔یاد رکھو کہ یہ کام تبلیغ کے کام سے کم نہیں ہے۔جب تک کام لینے والوں کو پورے حالات معلوم نہ ہوں وہ ہرگز کام کو اچھی طرح نہیں چلا سکتے۔پس جو شخص اس کام میں ستی کرتا ہے وہ کام کو نا قابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔(32) دشمن تمہارے کام کو نقصان پہنچانے کے لئے ہر طرح کی تدابیر کو اختیار کرے گا۔تمہاری ذراسی بے احتیاطی کام کو صدمہ پہنچا سکتی ہے۔پس فتنہ کے مقام سے دور رہو اور ایسی مجلس میں نہ جاؤ جس میں کوئی تہمت لگ سکے۔کسی شخص کے گھر میں نہ جاؤ جب تک تجربہ کے بعد ثابت نہ ہو جائے کہ وہ دشمن نہیں دوست ہے۔کھلے میدان میں لوگوں سے باتیں کرو۔(33) غصہ کی عادت ہمیشہ ہی بری ہے مگر کم سے کم اس سفر میں اس کو بالکل بھول جاؤ۔کسی وقت غصہ میں آکر ایک لفظ بھی سخت تمہارے منہ سے نکل گیا یا تم کسی کو دھمکی دے بیٹھے یا کسی کو مار بیٹھے تو اس کا فائدہ تو کچھ بھی نہیں ہو گا مگر آریہ لوگ اس کو اس قدر شہرت دیں گے کہ ہمارے مبلغوں کو ان کے حملوں کے جواب دینے سے فرصت نہ ملے گی اور سلسلہ کی سخت بدنامی ہوگی۔پس گالیاں سن کر دعا عملاً دو۔اور جوش دلانے والی بات کو سن کر سنجیدگی سے کہہ دو کہ اسلام اور احمدیت کی تعلیم تمہیں اس کا جواب دینے سے مانع ہے۔تم پھر بھی اس کے خیر خواہ ہی رہو۔اپنے مخالف سے بھی کہو کہ