زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 149

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 149 جلد اول سمجھتے ہیں ایسے طریق پر یاد کر و جوادب اور اخلاص کا ہو۔(25) کھانے پینے ، پہننے میں ایسی باتوں سے پر ہیز کرو جن سے ان لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔الگ جو چاہو کرو لیکن ان کے سامنے ان کے دل کو تکلیف دینے والی بات نہ کرو کہ علاوہ تمہارے کام کو نقصان پہنچانے کے یہ بداخلاقی بھی ہے۔(26) ہر ایک کام تدریجی طور پر ہوتا ہے۔یہ مت خیال کرو کہ وہ ایک دن میں پکے مسلمان ہو جائیں گے۔جو لوگ مسلمان ہو جائیں گے وہ آہستہ آہستہ پختہ ہوں گے۔پس یک دم ان پر بوجھ ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔تین چار ماہ میں خود ہی درست ہو جائیں گے۔پہلے تو صرف اسلام سے محبت پیدا کرو اور نام کے مسلمان بناؤ۔مگر یہ بھی نہ کرو کہ اسلام کی کوئی تعلیم ان سے چھپاؤ کیونکہ اس سے بعد میں ان کو ابتلا آوے گا یا وہ ایک نیا ہی دین بنالیں گے۔(27) لباس وغیرہ ان کے جیسے ہیں ویسے ہی رہنے دو اور ابھی چوٹیاں منڈوانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔یہ باتیں ادنیٰ درجہ کی ہیں۔جب وہ پکے مسلمان ہو جائیں گے خود بخود ان سب باتوں پر عمل کرنے لگیں گے۔(28) جس جگہ پر جاؤ وہاں خوش خلقی سے پیش آؤ اور بے کسوں کی مدد کرو اور دکھیاروں کی ہمدردی کرو کہ اچھے اخلاق 100 واعظ سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔(29) جس جگہ کی نسبت معلوم ہو کہ وہاں کسی شخص کو مناسب مدد دے کر باقی قوم کو سنبھالا جاسکتا ہے تو اس کی اطلاع افسر حلقہ کو کر دمگر یاد رکھو کہ اس طرف نہایت مجبوری میں توجہ کرنی چاہئے۔جب کوئی چارہ ہو ہی نہیں اسی صورت میں یہ طریق درست ہو سکتا ہے۔مگر خود کوئی وعدہ نہ کرو نہ کوئی امید دلاؤ۔امداد کس رنگ میں دی جا سکے گی؟ یہ افسروں کی ہدایت میں درج ہوگا اس معاملہ کو افسر حلقہ کے سپر در ہنے دو۔(30) کھانے پینے ، پہننے میں بالکل سادہ رہیں اور جس جگہ افسر حلقہ مناسب سمجھے وہاں کا مقامی لباس پہن لیں۔اور جس جگہ وہ مناسب سمجھے ایک چادر ہی پہن لو۔اگر