زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 148

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 148 جلد اول ہوا کہ قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر دور کے تعلق والوں سے جاملو۔ان کو بتاؤ کہ کرشن جی کی ہم مسلمان تو مہما کرتے ہیں اور ان کو اوتار مانتے ہیں لیکن آریہ ان کی ہتک کرتے ہیں اور ان کو گالیاں دیتے ہیں۔تمہارے سامنے کچھ اور کہتے ہیں اور الگ کچھ اور کہتے ہیں۔ان کو یہ بتاؤ کہ ہند و تو تم کو ہندو کر کے بھی چھوت چھات کرتے ہیں اور کریں گے۔چند لوگ لالچ دلانے کو تمہارے ساتھ کھا پی لیتے ہیں ورنہ باقی قوم تم سے برتاؤ نہیں کرے گی۔چاہو تو چل کر اس کا تجربہ کر لولیکن مسلمان تم کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ان کو بتاؤ کہ یہ آریہ جو آج تم کو چھوت چھات کی تعلیم دیتے ہیں دوسری جگہوں میں جا کر نیچ قوموں میں شدھی کرتے اور چماروں کو ساتھ ملاتے ہیں۔اس کے حوالے یاد رکھو۔( جیسے جموں میں شدھی ہو رہی ہے ) لیکن ایسی طرز پر بات نہ کرو کہ گویا تم چھوت چھات کے قائل ہو بلکہ اس بات کا اظہار کرو کہ وہ جھوٹ اور فریب سے کام لے رہے ہیں۔ان کو بتاؤ کہ یہ لوگ تمہارے خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن ہیں۔اس کا امتحان اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان عرصہ سے کوشش کر رہے ہیں کہ سود کی شرح محدود کر دی جائے اور قانون انتقال اراضی پاس کیا جائے مگر ہندو اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں ان دونوں قانونوں کو اچھی طرح سمجھ لو ) ان دونوں باتوں کا ان کو فائدہ سمجھاؤ اور کہو کہ ان کا امتحان اس طرح ہو سکتا ہے کہ جو آریہ یا ہند و آئے اسے کہو کہ اگر تم سچ مچ ہمارے خیر خواہ ہو تو یہ دونوں قانون پاس کر اؤ پھر ہم سمجھیں گے کہ تم ہمارے خیر خواہ ہو۔(23) اپنے دل کو پاک کر کے اور ہر ایک تکبر سے خالی کر کے بیماروں اور مسکینوں کے لئے دعا کرو۔اللہ تعالیٰ تمہاری ضرور سنے گا انشاء الله - میں بھی اِنْشَاء الله تمہارے لئے دعا کروں گا تا خدا تعالیٰ تمہاری دعاؤں میں برکت دے۔(24) اپنی زبان کو اس بات کا عادی بناؤ کہ ان بزرگوں کو جن کو فی الواقع ہم بھی بزرگ ہی