زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 138

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 138 جلد اول دوسرے کے نام کر دیا اور حضرت عمرؓ کو سارا واقعہ لکھ دیا۔آپ نے افسر کو ڈانٹا اور لکھا کہ تم نے بڑا ظلم کیا ہے جو کچھ اس نے سنایا تھا وہی اصل کلام تھا۔چاہئے تھا کہ تم اس کے عشق کی قدر کرتے کہ ساری عمر تو شعروں میں گنوائی مگر کلام حق سے سب کچھ جاتا رہا۔تم اس کا وظیفہ بحال کر دو اور اس کے اخلاص کی قدر کرو۔5 جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو یہ مت خیال کرو کہ جو لوگ کہیں کہ ہم تم سے نفرت کرتے ہیں، تمہاری بات نہیں سنتے وہ کبھی تمہاری نہیں مانیں گے۔یاد رکھو کوئی جماعت ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس میں وہ لوگ شامل نہ ہوں جو اس جماعت کو بدترین جماعت سمجھتے ہوں اور نفرت کرتے ہوں کیونکہ جتنے وہ عداوت میں بڑھے ہوئے ہیں اتنے ہی اخلاص میں ترقی کریں گے اور خدمت دین کے لئے بھی اتنی ہی ہمت دکھلائیں گے۔دشمن کی باتیں سنو گھبراؤ نہیں ، ہمت نہ ہارو کیونکہ دشمن آخر مغلوب ہو گا۔تم اپنے افسر کی پوری اطاعت کرو اور اس کا حکم مانو۔مجھے تمہارے متعلق کبھی خبر نہ پہنچے کہ تمہیں کسی جگہ لگایا گیا اور تم وہاں سے آگئے۔لوگوں کو جبر اسناؤ۔ان کے آگے پیچھے پھرو۔ماریں کھاؤ اور سناؤ۔منہ پھیر لیں دوسری طرف سے ہو کر سناؤ۔اور سناؤ یہاں تک کہ ان میں وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جو پاک فطرت ہیں اور حقانیت کو پورے طور پر قبول کر لیں۔لوگوں کی مخالفت سے نہ ڈرو۔خدا تعالیٰ کو سامنے رکھو تم ہی فاتح ہو گے۔آخر کار دشمن کا دل جھک جائے گا۔دیکھو برسات کا ٹھنڈا پانی گرم معدہ میں جا کر کیا ٹھنڈک پہنچاتا ہے اور یہی پانی پہاڑوں میں غاریں بنا لیتا ہے۔جتنی غاریں تمہیں نظر آتی ہیں یہ سب پانیوں نے بنائی ہیں اور ان کے راستے ہیں۔تو کیا خدا کا کلام ہی ایسا ہے جو اپنا رستہ نہ بنائے گا۔اگر واقعہ میں تم خدا کے لئے جاتے ہو اور خدا کے کلام کے حامل ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ تمہاری باتیں اثر نہ کریں۔اور کلام الہی ان لوگوں کے دلوں کو مصفانہ کر دے۔ہمت و استقلال۔کام کرو اور دعاؤں میں لگ جاؤ۔ان نصائح پر عمل کرو جو میں نے چودھری فتح محمد صاح