زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 8
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 8 جلد اول ان کے مطلب کے مطابق بنا کر بتاؤں۔ایسے مسلمانوں کا اسلام محتاج نہیں۔یہ تو مسیحیت کی فتح ہوگی نہ کہ اسلام کی۔جس نقطہ پر آپ کو اسلام کھڑا کرتا ہے اس سے ایک قدم آگے پیچھے نہ ہوں اور پھر دیکھیں کہ فوج در فوج لوگ آپ کے ساتھ ملیں گے۔وہ شخص جو دوسرے کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے حق چھوڑتا ہے دشمن بھی اصل واقعہ کی اطلاع پانے پر اس سے نفرت کرتا ہے۔کھانے، پینے، پہننے میں اسراف اور تکلف سے کام نہ لیں بے شک خلاف دستور بات دیکھ کر لوگ گھبراتے ہیں لیکن جب ان کو حقیقت معلوم ہو اور وہ سمجھیں کہ یہ سب اتقا کی وجہ سے ہے نہ کہ غفلت کی وجہ سے تو ان کے دل میں محبت اور عزت پیدا ہو جاتی ہے۔ایسا جانور جو گردن پر تلوار مار کر مارا گیا ہو یا جو دم گھونٹ کر مارا گیا ہو کھانا جائز نہیں 2 قرآن کریم منع کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود سے جب ولایت جانے والوں نے پوچھا تو آپ نے منع فرمایا۔پس اسے استعمال نہ کریں۔ہاں اگر یہودی یا عیسائی گلے کی طرف سے ذبح کریں تو وہ بہر حال جائز ہے۔خواہ تکبیر سے کریں یا نہ کریں۔آپ بِسمِ اللہ کہہ کر اسے کھا لیں۔یہودی ذبح کرنے میں نہایت محتاط ہیں۔ان کے گوشت کو بے شک کھائیں۔لیکن مسیحی آجکل جھٹکہ کر کے یادم کھینچ کر مارتے ہیں اس لئے بغیر تسلی ان کا گوشت نہ کھائیں۔ان کا پکا ہوا کھانا جائز ہے۔مچھلی کا گوشت جائز ہے۔شکار کا جو بندوق سے ہو گوشت جائز ہے۔کسی مسیحی کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا پڑے تب بھی جائز ہے۔انسان ناپاک نہیں۔ہاں ہر ایک ناپاک چیز سے ناپاک ہو جاتا ہے۔عورتوں کو ہاتھ لگانا منع ہے۔احسن طریق سے پہلے لوگوں کو بتا دیں۔حضرت مسیح موعود سے جب ایک یورپین عورت ملنے آئی تو آپ نے اسے یہی بات کہلا بھیجی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عورتوں کا ہاتھ پکڑ کر بیعت لینے کا سوال ہوا تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔3 یہ ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اس میں عورتوں کی ہتک نہیں۔کیونکہ جس طرح مرد کے لئے عورت کو ہاتھ لگا نامنع ہے اسی طرح عورت کے لئے مرد کو ہاتھ لگانا منع ہے۔پس اگر ایک