زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 132

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 132 جلد اول آگرہ جانے والے تیسرے تبلیغی وفد کو ہدایات 14 اپریل 1923ء کو آگرہ جانے والے تیرے تبلیغی وفد کو حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے بوقت رخصت جو ہدایات فرمائیں وہ درج ذیل ہیں۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہمیشہ مامور و مرسل ایسے لوگوں میں سے ہوتے ہیں جو ادنی اور کمزور سمجھے جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیرت رکھتا ہے۔وہ ہرگز پسند نہیں کرتا کہ لوگ کہیں کہ فلاں مذہب کو فلاں بادشاہ کی وجہ سے ترقی مل گئی۔اگر انبیاء علیہم السلام بادشاہوں میں سے ہوتے تو لوگ کہتے کہ ان کی وجہ سے اور ان کے اثر سے لوگ مان گئے اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی قدرت نمائی نہ ہوتی۔اسی طرح انبیاء علیهم السلام کی جماعتوں کی ترقی بھی غیر معمولی سامانوں سے ہوتی ہے۔جس وقت دنیا سمجھتی ہے کہ اب یہ تباہ ہوئے اب برباد ہوئے وہی وقت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ترقی کے سامان پیدا کرتا ہے۔ابھی تھوڑے دن ہوئے کہ خلافت کا شور زور پر تھا۔لوگ ہم کو کہتے تھے کہ نادانی سے مخالفت کرتے ہیں اور ساری دنیا سے لڑتے ہیں جلد تباہ ہو جائیں گے اور جب ان لوگوں کی مخالفت حد کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کر دیئے اور سب لوگوں کی توجہ ایک ایسے کام کی طرف پھیر دی جس میں سوائے ہمارے اور کوئی اتر ہی نہیں سکتا۔تقریریں کرنا اور ہے اور اخلاص سے کام کرنا اور ہے یہ کام مامور کی جماعت کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔خدا کے مامور روح پھونکتے ہیں ہمت پیدا ہوتی ہے ، اس میں شبہ نہیں