زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 130
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 130 جلد اول ماریں یا جو چاہیں تکلیف پر تکلیف دیں تم صبر سے کام لو کہ اسی میں تمہاری فتح ہے۔دشمن کی سختی کا نرمی سے جواب دو۔ہمارے دل میں قانون کا ادب ہے اگر وہ لوگ فساد کریں گے تو ممکن ہے حکام کو دخل دینا پڑے اور پھر ہمارے لئے وقت ہو۔ان لوگوں کیلئے وقت نہیں کیونکہ وہ وہاں کے رہنے والے ہیں، ان کی آبادی وہاں 80 فیصدی ہے۔پس اگر وہاں فتنہ فساد ہو تو آریوں کے حق میں مفید ہوگا۔ان کے آدمی وہیں کے ہیں وہیں رہیں گے۔اس لئے تم ماریں کھاؤ صبر کرو۔تم ماریں خدا کے لئے کھاؤ اور جواب نہ دو پھر خدا تمہاری مدد کرے گا۔یہ چیز ہے جس سے فتح ہوتی ہے۔روس کے ایک بادشاہ نے دربان کو حکم دیا کہ کسی کو اندر نہ آنے دو۔ایک امیر جو بہت بڑا عہدہ رکھتا تھا آیا اور اس نے اندر جانا چاہا۔دربان نے اسے روکا کہ بادشاہ کی طرف سے داخلہ کی ممانعت ہے۔اس نے کہا تم مجھے جانتے ہو میں کون ہوں؟ دربان نے جواب دیا ہاں میں جانتا ہوں آپ فلاں ڈیوک ہیں۔اس نے کہا کہ پھر کیوں روکتے ہو؟ اس نے جواب دیا اس لئے کہ بادشاہ کا حکم ہے۔ڈیوک نے اسے مارنا شروع کیا۔وہ مار کھاتا رہا۔مار کر کہا ہٹ جاؤ۔وہ ہٹ گیا۔ڈیوک داخل ہونے لگا وہ دروازہ میں کھڑا ہو گیا۔ڈیوک نے پھر مارنا شروع کیا۔غرض تین چار دفعہ ایسا ہوا۔بادشاہ نے یہ سب ماجرا دیکھا آخر کہا کہ یہ کیا ہے؟ ڈیوک نے غصہ سے بادشاہ کو کہا کہ دربان مجھ کو اندر آنے سے روکتا ہے۔بادشاہ نے اس سے پوچھا تم جانتے ہو یہ کون ہے ؟ جواب دیا ہاں۔پوچھا تو تم نے روکا ؟ عرض کیا ہاں۔کیوں روکا؟ اس لئے کہ حضور کا حکم تھا اور بادشاہ کا حکم سب سے بڑا ہے۔بادشاہ نے ڈیوک سے پوچھا اس نے کہا تھا کہ میں بادشاہ کے حکم سے روکتا ہوں؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں۔بادشاہ نے کہا ٹالسٹائے تم اس کو مارو۔ڈیوک نے کہا یہ نہیں مارسکتا کیونکہ مجھے فلاں فوجی عہدہ حاصل ہے۔بادشاہ نے اس کو وہ عہدہ دے دیا اور کہا مارو۔اس نے کہا کہ میں نواب ہوں محض ایک عہدیدار مجھے نہیں مارسکتا۔بادشاہ نے کہا کونٹ ٹالسٹائے اسے مارو۔