زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 129

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 129 جلد اول موقع دیا گیا ہے کہ خدا کے دین کی حفاظت کی کوشش کریں اور وعظ ونصیحت سے دین پھیلائیں۔جولوگ اس کام کے لئے جاتے ہیں اور ان کو اس خدمت کا موقع ملا ہے وہ خوش قسمت ہیں۔یہ مت سمجھو کہ تم کسی خطرے میں جاتے ہو یا تم پر کوئی بوجھ ڈالا گیا ہے یا تم کوئی قربانی کرتے ہو۔یہ اللہ ہی کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں یہ موقع دیا ہے اور ایسے مواقع خوش قسمتی سے نصیب ہوتے ہیں۔جن کے دل میں یہ خواہش ہے وہ خوش نصیب ہوتے ہیں۔ہم سے جو کام ہوتا ہے اس میں ہماری بڑائی نہیں یہ اللہ کا فضل ہے۔آج وہ بھی تو لوگ ہیں جن کو حکومت کی اور لیڈری کی فکر ہے۔ہم بھی انہی میں سے ہیں، ان کے بھائی بند ہیں، رشتہ دار ہیں۔ان کے دلوں میں یہ بات نہیں جو تمہارے دلوں میں ہے۔یہ محض اللہ کے فضل ہیں جنہوں نے ہمیں کو نواز دیا ورنہ ہم بھی وہی ہیں جو وہ ہیں۔پس خدا کے حضور دعائیں کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ اس کام کے لئے جاؤ یہ موقعے ہر روز نہیں ملا کرتے۔میں نے پہلے بھی کہا ہے اب پھر کہتا ہوں کہ افسروں کی اطاعت کرنا خواہ کیسے سخت احکام ہوں اور تکلیف ہو۔ایک صحابی کو رسول کریم ﷺ نے ایک جگہ بھیجا انہوں نے وہاں جا کر کہا کہ میں جو حکم دوں گا وہ کرنا ہوگا۔جہاں جہاں جو افسر ہوں ان کی اطاعت ضروری ہے۔بھائی جی ( حضرت مولوی شیخ عبدالرحیم صاحب) راستہ میں امیر ہیں۔راستہ میں ہر ایک کام ان کے حکم کے ماتحت کرو۔وہاں چودھری صاحب ہیں اور پھر ضرورت کے مطابق جس کو وہ مناسب سمجھیں گے افسر اور ماتحت بنائیں گے۔تمہارا فرض ہوگا ہر ایک افسر کی اطاعت کرو۔اس افسر کے حکم کو میرا حکم سمجھو اور میرا حکم خدا کا حکم سمجھو کیونکہ میں جو کچھ کہتا ہوں خدا کے دین کی خدمت کے لئے کہتا ہوں اپنے نفس کے لیے نہیں کہتا۔پس افسروں کی پوری اطاعت کرو۔جوشوں کو قابو میں رکھو۔اگر تمہارے راستہ میں تکالیف آئیں تو نہ گھبراؤ تمہیں مخالف