زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 128

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 128 جلد اول دشمن کی شرارت کا مقابلہ نہ کرو ماریں کھاؤ اور ہاتھ نہ اٹھاؤ 24 مارچ 1923ء کو جو دوسرا وفد علاقہ ارتداد کی طرف روانہ ہوا اس کو رخصت کرتے ہوئے موٹر پر سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " کہتے ہیں کہ ے جب خدا دیتا ہے تب دیتا ہے چھپر پھاڑ کر انسان کوشش کرتا ہے مگر اس کو کچھ نہیں ملتا مگر جب اللہ تعالیٰ دیتا ہے تو اپنے فضل۔چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔ابھی میں نے جب سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی تو میرے دل میں ڈالا گیا کہ تم ہی مستحق ہو جو کہو کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ 1 جو لوگ آج سے پہلے ہمیں کہتے تھے کہ تم جہاد کے منکر ہو وہ جہاد سے محروم ہیں اور ی اللہ تعالیٰ نے ہمیں جہاد کا موقع دے دیا۔وہ خدا کو ناراض کر کے جہاد کرنا چاہتے تھے محروم رہے۔ہم خدا کے لئے اس جہاد کے منکر تھے جس کے وہ قائل تھے ہمیں اللہ تعالیٰ نے موقع دیا۔اگر لوگوں کو زبردستی مارنا اور تلوار کا استعمال کرنا اسلام میں جائز ہوتا اور اس سے خدا خوش ہوتا تو میں خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ ہمیں اپنی جان کی کچھ بھی پرواہ نہ ہوتی اور اگر سچائی کے خلاف ظالمانہ عمل خدا کو نعوذ باللہ پسند ہوتا تو ہم ضرور کرتے مگر ہمارے خدا کو یہ پسند نہ تھا اس لئے ہم وہ کرتے تھے۔ہاں اب ہمیں اس قسم کے جہاد کا