زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 125

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 125 جلد اول سچائی اور اس کا اظہار یاور ھیں کہ سچائی ایک ایسی خوبی ہے جو بھی بدی کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتی مگر یہ بھی یادرکھیں کہ ہر ایک صداقت کا اظہار ضروری نہیں ہوتا۔ایک لنگڑے کو لنگڑا کہ دینا سچائی ہے مگر اس صداقت کا اظہار گناہ ہے۔جھوٹ کہنے اور ہر سچائی کے ظاہر کرنے میں فرق ہے۔وہ سچائی جس کا اظہار دین کی بھلائی کے لئے ضروری نہیں بلکہ اس کے اظہار سے دوسروں کے احساسات کو صدمہ پہنچتا ہے اس کے ظاہر کرنے کی ہر گز ضرورت نہیں۔بلکہ اس کا اظہار گناہ ہے۔اس لئے نہیں کہ اس نے سچ کیوں کہا۔بلکہ اس واسطے کہ جہاں اسے کچھ نہیں کہنا چاہئے تھا وہاں یہ بول پڑا۔پس محض اس یقین پر کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں سچ ہے مت بول پڑا کریں۔بلکہ یہ بھی سوچ لیا کریں کہ کیا اس سچ کو اس وقت بیان کرنا مفید ہے؟ اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے نہ بیان کرنے میں نقصان نہیں لیکن بیان کرنے میں کسی اور شخص کو تکلیف ہوتی ہے ؟ اگر ایسا ہو تو اپنی زبان کو روک لیں کیونکہ وہ گناہ کی مرتکب ہونے لگی ہے۔اخراجات کا حساب رکھنا حسابات کے رکھنے میں اور اپنے کام کے سیکھنے میں محنت سے کام لیں۔حساب کا رکھنا بے اعتباری کی علامت نہیں۔بلکہ اعتبار کے مضبوط کرنے اور بے اعتباروں کو بھی اعتبار سکھانے کا ذریعہ ہے۔اور کام بلا غور اور محنت کے نہیں آتے۔خالی اخلاص انسان کو کام نہیں سکھا دیتا بلکہ وہ شخص جو یہ خیال کرے کہ اس کا اخلاص اسے سب کچھ سکھلا دے گا در حقیقت اخلاص سے خالی ہے۔کیونکہ اگر اس کے اندر اخلاص ہوتا تو وہ ستی کیوں کرتا اور کیوں ایک مصیبت میں پھنسے ہوئے شخص کی طرح کام کے سیکھنے میں نہ لگ جاتا۔کیا ماں کی محبت بچے کو مرض سے بچالیتی ہے یاماں کی محبت کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے بچے کو مرض سے شفا دلانے کے لئے پوری کوشش کرنے لگتی ہے۔اخبار کو ایڈٹ کر نا او لیکچر کی تیاری اخبار کو ایڈٹ کرنے کا وہ طریق بہترین ہے جو مفتی صاحب نے