زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 121
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 121 جلد اول انفرادی طور پر ہو سکتا ہے ) تو پھر دیکھیں وہ خود کس طرح دوسروں کو سیدھا کر لیتی ہیں اور آپ کا بوجھ ہلکا کر دیتی ہیں۔لغو کاموں سے پر ہیز ایسے تمام مواقع سے بچیں جو تہمتوں کا موجب ہوں اور ایسی تمام مجالس سے بچیں جو لغو کاموں پر مشتمل ہوں کہ یہ تبلیغ کے کاموں میں روک ہو جاتے ہیں۔سادہ اور بے تکلف زندگی اپنی زندگی سادہ اور بے تکلف بنائیں اور اپنی موجودہ زندگی کو یاد رکھیں۔انسان جب دوسروں کو دیکھتا ہے تو بھول جاتا ہے کہ وہ پہلے کس طرح رہتا تھا اور یہ چیز اس کے لئے پہلی ٹھو کر ہوتی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ وہاں کے ان سامانوں کو استعمال نہ کریں جو کام کے لئے مفید ہوں اور ان کے ذریعہ سے کام کی وسعت میں مدد ملے مگر میرا یہ مطلب ضرور ہے کہ صرف اس خیال سے کہ لوگ میرا رعب نہیں مانیں گے ایسی زندگی بسر نہ کریں جو یہاں کی رہائش کے مقابلہ میں عیاشانہ اور آرام طلبی کی زندگی کہلا سکتی ہے۔چاہئے کہ اپنا لباس اسلامی بس میرا مطلب اسلامی لباس سے وہ لباس ہے جسے خدا کے مقدسوں نے پسند کیا یعنی لمبے کوٹ اور نماز میں سہولت پیدا کرنے والا لباس۔پادریوں میں بھی اس لباس کا رواج بتاتا ہے کہ مسیح علیہ السلام بھی ایسا ہی لباس پہنتے تھے۔پس یورپین فیشن کو اختیار نہ کریں۔کوٹ کی جگہ ہماری طرز کا ہی کھلا کوٹ بلکہ چونکہ وہاں سردی زیادہ ہوتی ہے عبا کی طرز کا کوٹ ہو۔پتلون کی بجائے اونی ڈرائرز (Drawers) اور اوپر شلوار یا ایسا دیسی لباس جس سے نماز میں آسانی رہتی ہے۔انگریزی ٹوپی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سخت نا پسند تھی گو حرام نہیں مگر ہمیں اس امر کا خیال رکھنا چاہئے۔پس یا پگڑی باندھیں یا ترکی ٹوپی کا استعمال کریں۔پگڑی قریب تر اسلامی شعار ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نہایت پسند تھی ایسے لباس بجائے تبلیغ میں روک ہونے کے اس کے لئے ایک محرک ہو جاتے ہیں اور ظاہری طرز کے نہ بدلنے سے دل کو بھی وہ تقویت حاصل ہوتی ہے جس۔