زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 112

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 112 جلد اول لیکن جب ایسا ہوتا ہے اور بوجہ اس کے ایسا ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے نفس کو گرایا اور خدا تعالیٰ کا فضل آیا تو اس وقت انہیں یاد نہیں رہتا کہ ہم نے کام شروع کرتے وقت یہ اقرار کیا تھا کہ ہم ناقابل ہیں اور فی الواقع وہ نا قابل تھے۔وہ ماضی پر نگاہ کر کے کہتے ہیں ہم نے یہ کام کیا مگر وہ اس سے پہلے زمانہ کو بھول جاتے ہیں جب سچے دل سے وہ اپنی نالائقی کا اقرار کرتے تھے اور اسی کا نتیجہ تھا کہ انہیں کامیابی ہوئی تھی۔اس وقت وہ امیدوار ہوتے ہیں کہ انہیں اعلیٰ مدارج حاصل ہوں۔اس وقت ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں جماعت پر حکومت حاصل ہو۔اس وقت وہ چاہتے ہیں کہ دوسروں کے سروں کو اپنے سامنے جھکا ئیں۔اور اگر یہ باتیں انہیں حاصل نہیں ہوتیں تو بلعم باعور 2 کی طرح ہو جاتے ہیں اور اس وقت اگر ان پر موت آجائے تو قریب ہے کہ جہنم میں ڈالے جائیں۔اس وقت بھی یہی احساسات ہونے چاہئیں جو ابتدا میں ہوتے ہیں۔دیکھو نبیوں کی کیا حالت ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں :۔کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار3 یہ آپ نے اس وقت کہا جب آپ کام ختم کر کے فاتح جرنیل کی طرح جارہے تھے۔تو درحقیقت یہ خیالات ہر شخص کے دل میں ہونے چاہئیں اور ہماری جماعت کے لوگوں میں جب تک یہ خیال نہ ہوں گے کامیابی نہ حاصل ہو سکے گی۔دیکھو ہماری مثال بھی یہی ہے جیسے چودھری فتح محمد صاحب نے اپنی چھوٹی لڑکی کے متعلق سنایا کہ ایک دن وہ کہنے لگی ابا مجھے بھی کنویں پر لے چلو۔چودھری صاحب نے پوچھا کیوں؟ تو کہنے لگی میں بھینس کو اٹھاؤں گی۔اسے کہا گیا وہ تو بہت بڑی ہوتی ہے کس طرح اٹھاؤ گی؟ کہنے لگی اگر بھینس کو نہیں تو اس کے بچے کو اٹھاؤں گی۔یہ تو ہنسی کی بات تھی۔مگر ہمارا یہ خیال کہ ہم نے دنیا کو فتح کرتا ہے اور کفر کو مٹانا ہے حالانکہ ہمارے اندر ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کے خیالات سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگ ہیں جو یورپ کے فلسفہ سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ایسے