زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 106

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 106 جلد اول انبیاء کبھی ست نہیں ہوتے۔(6) اپنا کام کرتے وقت کبھی یہ خیال دل میں مت لاؤ کہ لوگ میرا کام کر دیں گے۔کسی دوسرے پر نگاہ مت رکھو۔ہاں اگر کوئی دوسرا شخص اس نیت سے کام کر دے کہ مجھے اس کا کام کرنے سے ثواب ہو گا تو اس کی نیت کا بھی لحاظ رکھیں۔(7) اخلاق کا خاص خیال رکھیں۔جہاں تک ہو سکے اخلاق کی درستی پیدا کریں۔حکام سے معاملہ کرتے وقت بھی مناسب ادب سے پیش آئیں اور اپنی تعلیم کی حقیقت سے ان کو بھی آگاہ کرتے رہنا چاہئے۔ان لوگوں کے اختیار میں بھی کچھ ہوتا ہے۔خواہ مخواہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کو چڑانا نہیں چاہئے۔(8) پھر جن لوگوں میں آپ تبلیغ کریں گے ان میں آجکل یہ خیال خاص طور پر جوش سے پھیلا ہوا ہے کہ دنیا ہمیں حقیر جانتی اور ہم سے نفرت کرتی ہے اس لئے ان سے محبت سے معاملہ کریں اور یہ بات ان پر ظاہر نہ ہونے دیں اور ان کو ذہن نشین کرائیں کہ دنیا جو ان سے نفرت کرتی ہے اس کی وجہ عدم ایمان ہے۔اس لئے ان کو قوموں سے نفرت نہیں کرنی چاہئے بلکہ ان کے مذہب کو حقیر جائیں۔ان میں آجکل اس بات کی وجہ سے اس قدر جوش پھیلا ہوا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیا کو تباہ کر کے ان کی نسلیں آباد ہو جائیں اور اس جوش کو دیکھ کر مجھے خیال آتا ہے کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ مکہ پر ایک حبشی حملہ کرے گا تو اس کا کہیں یہی مطلب نہ ہو۔(9) اپنی عادات میں ، لباس میں، کھانے پینے میں ہمیشہ کفایت مدنظر رہے۔کفایت سے انسان کو شکر کی عادت پیدا ہوتی ہے اور شکر کے بعد بڑی بڑی نعمتیں ملتی ہیں۔ایک انسان جس کو کفایت کی عادت نہ ہوا سے اگر بڑی بڑی نعمتیں بھی مل جائیں تو وہ یہی کہتا ہے کہ میرا حق تھا مجھے کیا ملا۔پس جو کفایت شعار نہیں ہوتا اس کے دل سے شکر کبھی نہیں نکلتا۔“ الفضل 20 مارچ 1922ء) 1 آل عمران: 32