زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 105

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 105 جلد اول قائم کرنے میں ایک حصہ وافر ملے تا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی جزا سے بھی حصہ وافر ملے۔والسلام خاکسار میرزا محمود احمد ( الفضل 30 جنوری 1922ء) مندرجہ بالا تحریری ہدایات کے علاوہ حضور نے زبانی ہدایات بھی فرمائیں جو درج ذیل ہیں:۔ایک مبلغ کو نصائح (1) وہاں کی زبان سیکھنے کی کوشش کریں کیونکہ اس کے بغیر تبلیغ نہیں ہوسکتی۔(2) جن لوگوں میں آپ تبلیغ کریں ان سے نہایت محبت اور پیار اور حکمت سے کام لیں اور ایک انتظام کے ماتحت ان کو رکھیں۔مثلاً مختلف آدمی مقرر کئے جائیں جو ان کی نگرانی کریں۔نمازوں میں باقاعدگی کے متعلق بھی انتظام کیا جائے۔(3) وہ قومیں اپنے سرداروں کا بہت ادب کرتی ہیں اس لئے ان سے معاملہ کرتے وقت کوئی ایسی بات نہ ہو جو ان کو بری لگے۔اور جب نصیحت کریں تو علیحدگی میں کریں تا کہ وہ بھی اپنی ہتک نہ سمجھیں۔ہاں الگ ہو کر دونوں گروہوں کو ذہن نشین کرانے کی کوشش کریں کہ مذہبی طور پر ان کا سردار وہی ہے جو ہما را آدمی ہو گا۔(4) چونکہ ان لوگوں کے دماغ ابھی بہت موٹے ہیں بار یک باتوں کو ابھی نہیں سمجھ سکتے مثلاً یہی کہ جنت میں انعامات جو ہوں گے تو مثلاً نمازیں متمثل ہو کر پھلوں کی شکل میں ملیں گی اس لئے ان کے لئے یہی کافی ہوگا کہ دوزخ ایک ایسی چیز ہے جہاں خدا کی نافرمانی سے انسان جاتا ہے اور جہاں سخت عذاب ہوتے ہیں۔اور جنت وہ چیز ہے جہاں اس انسان کو جو خدا اور اس کے رسول کے احکام کو بجالائے بڑی بڑی راحتیں اور آرام ملتے ہیں۔اس سے یہ مطلب نہیں کہ ان کو اعلیٰ تعلیم دی ہی نہ جائے بلکہ پہلی بات ذہن نشین ہونے کے بعد تدریجا بتا ئیں۔(5) انسان کو سست کبھی نہ ہونا چاہئے ، ہمیشہ چست رہے اور اس کے لئے کچھ ورزش کرتے رہنا چاہئے۔مثلاً چلنا پھرنا ہی سہی۔اس کا روح سے بہت تعلق ہوتا ہے۔