حضرت زینب ؓ بنت محمد ﷺ — Page 9
حضرت زینب بنت حضرت محمد عل الله صلى الله 9 اللهعهم سے کہا " إني قد أجرت أَبَا العاص “ یعنی میں نے حضرت ابوالعاص کو پناہ میں لے لیا۔رسول کریم عمل نماز سے فارغ ہوئے اور یہ بات سنی تو فرمایا ”لوگو! تم نے کچھ سنا !‘ لوگوں نے جواب دیا ہاں ! صلى الله یا رسول اللہ۔جب حضور کے گھر تشریف لائے تو حضرت زینب آپ میلہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ یا رسول اللہ الا اللہ حضرت ابو العاص اگر قریب ہیں تو خالہ کے بیٹے ، اگر دور ہیں تو میرے بچوں کے باپ ہیں اس لئے میں نے انہیں پناہ دے دی۔(8) اس قافلے کے سربراہ کے طور پر حضرت ابوالعاص تھے ، براہ مہربانی ان کا مال و متاع ان کو واپس کر دیں۔رسول کریم ﷺ نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ حضرت ابو العاص میرے رشتہ دار ہیں اگر آپ ان پر احسان کرتے ہوئے ان کا سامان واپس کر دیں گے تو میرے لئے خوشی کا باعث ہوگا ورنہ تمہیں اختیار ہے۔سب نے کہا کہ ہم سارا سامان واپس کرتے صلى الله ہیں۔رسول کریم میہ نے حضرت زینب سے کہا کہ آپ حضرت ابوالعاص کی خاطر مدارت، عزت و احترام میں کوئی فرق نہ آنے دیں لیکن جب تک وہ اسلام نہ لائیں آپ الگ گھر میں رہیں۔الله اس کے بعد حضرت ابوالعاص اپنا مال و اسباب لے کر اپنے بچوں کو پیار کر کے اور ان کی ماں کو الوداع کہہ کر روانہ ہو گئے (9)