حضرت زینب ؓ بنت محمد ﷺ

by Other Authors

Page 10 of 18

حضرت زینب ؓ بنت محمد ﷺ — Page 10

حضرت زینب بنت حضرت محمدعلم الله 10 مکہ پہنچ کر جس جس کا کوئی حساب کتاب دینا تھا وہ واپس کیا اور ایک روز اہل قریش کو جمع کر کے پوچھا اے اہل قریش ! اب میرے ذمہ کسی کا کوئی مطالبہ تو نہیں۔انہوں نے جواب دیا۔بے شک اب کوئی مطالبہ نہیں اور خدا تم کو جزائے خیر دے تم ایک باوفا اور کریم النفس شخص ہو۔اس پر حضرت ابو العاص نے کہا ”سن لو ! اب میں مسلمان ہوتا ہوں یہ کہہ کر با آواز بلند کلمہ پڑھا اور کہا کہ خدا کی قسم مجھے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے یہ بات روکے ہوئے تھی کہ تم یہ نہ سمجھو کہ میں تمہارا مال اور پیسے کھا گیا ہوں اس لئے بچنے کے لئے مسلمان ہو گیا ہوں اب جب کہ میں اس بوجھ سے فارغ ہو گیا ہوں تو اب مجھ کو مسلمان ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔“ اس بات سے حضرت ابو العاص کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا پتہ چلتا ہے کہ وہ سب سے امین شخص کے داماد تھے اور ان سے رشتہ داری کا حق کتنا اچھا نبھاتے تھے۔حضرت ابو العاص محرم 7 ہجری کو مسلمان ہوئے اور مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے جب آپ مدینہ پہنچے تو رسول کریم اللہ نے حضرت زینب کو ان کے ساتھ رخصت کر دیا۔(10) حضرت زینب اپنے والد محترم حضرت محمد ﷺ اور اپنے میاں