حضرت زینب ؓ بنت محمد ﷺ

by Other Authors

Page 8 of 18

حضرت زینب ؓ بنت محمد ﷺ — Page 8

حضرت زینب بنت حضرت محمد من الله 8 تھے۔وہ ہر وقت مغموم رہتے تھے۔ایک مرتبہ شام کے سفر پر گئے اور حضرت زینب بہت یاد آئیں تو انہوں نے یہ پُر در دشعر پڑھے:۔” جب میں ارم کے پاس سے گزرا تو زینب کو یاد کیا اور بے ساختہ یہ دعا دی کہ اللہ اس کو تر و تازہ رکھے جو حرم میں سکونت پذیر سے امین ( محمد ملے ) کی لڑکی کو خدا تو نیک جزا دے اور ہر شوہر اسی بات کی تعریف کرتا ہے جس کو وہ خوب جانتا ہے۔" تقریبا چھ سال دونوں میاں بیوی کو جدائی کے صدمات سہنے پڑے۔(78) حضرت ابو العاص ایک نہایت ایماندار اور کامیاب تاجر تھے۔ایک دفعہ اہلِ قریش کے ایک قافلہ کے ساتھ شام سے تجارت کر کے واپس آ صلى الله رہے تھے۔حضور علی کو قافلے کے گزرنے کا پتہ چلا تو زید بن حارث کو 170 سواروں کے ساتھ ان کے تعاقب کے لئے روانہ کیا۔چنانچہ مقام عیص میں مسلمانوں نے مشرکین کو گرفتار کر لیا۔لیکن حضرت ابو العاص کو مسلمان پہنچانتے تھے اسی لئے ان کو کسی نے کچھ نہیں کہا۔حضرت ابوالعاص نے جب قافلے کا یہ حشر دیکھا تو فوراً مدینہ پہنچے اور حضرت زینب سے پناہ طلب کی۔عربوں میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی پناہ دیتا تھا تو پورے قبیلے کا اس کو پناہ دینا سمجھا جاتا تھا۔اس وقت آنحضور ﷺ نماز فجر ادا کر رہے تھے۔تو حضرت زینب نے بلند آواز