حضرت زینب ؓ بنت محمد ﷺ — Page 7
حضرت زینب بنت حضرت محمد علی 7 وہ تیر کھائے گا ، کفار مکہ تھوڑی دیر میں اِدھر اُدھر ہو گئے۔ابوسفیان سردار قریش آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ اپنے تیرو کو ہم تم سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔کنانہ نے اپنے تیر واپس ڈال لئے اور پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس صلى الله نے کہا ہم کومحمد (رسول اللہ علے ) کے ہاتھوں تکلیف ، شکست ، مصیبت، رسوائی اور ذلت ملی ہے اب اگر محمد اللہ کی بیٹی کو اعلانیہ ہمارے سامنے الله لے جاؤ گے تو لوگ ہم کو کمزور اور بزدل کہیں گے ہم کو محمد ﷺ کی بیٹی کو روکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ہمارا مقصد یہ ہے کہ ابھی تم واپس چلو۔جب ذرا معاملہ ٹھنڈا ہو تو پھر کسی اور وقت لے جانا۔کنانہ بن ربیع نے یہ بات منظور کر لی۔اور چند دنوں بعد خفیہ طور پر حضرت زید بن حارثہؓ کے سپر د کر دیا جو حضرت زینب کو لے کر مکہ سے روانہ ہو گئے۔(7A) حضرت زینب کو اتنی زور کی چوٹ لگی تھی کہ اس کے بعد وہ چند سال زندہ رہیں، جب تک وہ زندہ رہیں اس چوٹ کی وجہ سے بیمارر ہیں۔صلى الله جب رسول کریم ﷺ کو اس بات کا پتہ چلا تو حضور ﷺ بہت الله افسردہ ہوئے۔آپ ﷺ نے فرمایا :۔وو یہ میری سب سے اچھی بچی تھی ، جو میری محبت میں ستائی گئی۔“ حضرت ابو العاص حضرت زینب کے مدینہ چلے جانے سے بہت اُداس تھے کیونکہ آپ دونوں کے تعلقات بہت خوشگوار اور پیار و محبت کے