حضرت زینب ؓ بنت محمد ﷺ — Page 3
حضرت زینب بنت حضرت محمد من الله 3 جب رسول کریم عملہ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو حضرت زینب فوراً ایمان لے آئیں۔اس وقت ان کے شوہر حضرت ابو العاص تجارت کی غرض سے مکہ سے باہر گئے ہوئے تھے۔انہوں نے دورانِ سفر ہی رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بارے میں خبریں سن لیں تھیں۔مکہ آکر تصدیق بھی ہو گئی۔حضرت زینب نے کہا میں نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ شش و پیچ میں پڑ گئے۔انہوں نے کہا، اے زینب کیا تم نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر میں آپ ﷺ پر ایمان نہ لایا تو پھر کیا ہو گا؟ حضرت زینب نے جواب دیا، میں اپنے صادق اور امین باپ کو کیسے جھٹلا سکتی ہوں ؟ خدا کی قسم وہ بچے ہیں اور پھر میری ماں اور بہنیں اور حضرت علی بن ابو طالب اور ابوبکر اور تمہاری قوم میں عثمان بن عفان اور تمہارے ماموں زاد بھائی زبیر بن العوام بھی ایمان لے آئے ہیں اور میرا خیال نہیں ہے کہ تم میرے باپ کو جھٹلاؤ گے اور ان کی نبوت پر ایمان نہیں لاؤ گے۔حضرت ابوالعاص نے کہا مجھے تمہارے والد پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے اور نہ میں ان کو جھٹلاتا ہوں بلکہ مجھے تو اس سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں کہ میں تمہارے ساتھ تمہارے طریقے پر چلوں لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ قوم مجھ پر الزام لگائے گی اور کہے گی کہ میں نے بیوی کی خاطر اپنے آباؤ اجداد کے دین کو چھوڑ دیا چنانچہ انہوں نے اسلام قبول نہ کیا۔(2)