حضرت زینبؓ بنت خزیمہ

by Other Authors

Page 2 of 12

حضرت زینبؓ بنت خزیمہ — Page 2

اُم المساكين حضرت زینب بنت خزیمہ جانوروں سے بدتر سمجھی جاتی تھی۔گویا اس کے کوئی جذبات واحساسات ہی نہیں تھے لیکن محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے سارے حقوق انہیں دلوائے اور خود ثابت کیا کہ عورت قابل احترام ہستی ہے خواہ اُس کا کوئی بھی روپ ہو ماں ہو، بیٹی ہو یا بیوی ہو۔عرب معاشرے میں اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو خاوند کی چھوڑی ہوئی جائیداد کے ساتھ ساتھ اس کی بیوہ بھی ورثے میں تقسیم ہو جاتی تھی اور اُسے یہ حق حاصل نہ ہوتا کہ وہ دوبارہ اپنا گھر بسا سکے۔اور اپنی مرضی سے سکون و اطمینان کی زندگی گزار سکے۔ہمارے پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوگان سے شادی کر کے یہ مثال قائم کی کہ عورت کا یہ حق ہے کہ ایک خاوند کے فوت ہو جانے پر اگر وہ چاہے تو شادی کر کے اپنی باقی زندگی کو اطمینان و سکون سے گزار سکے۔رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے جن بیوگان سے نکاح کیا ان میں ایک حضرت زینب بھی تھیں۔آپ کا اصل نام زینب تھا۔والد کا نام خزیمہ بن عبد اللہ بن عمر بن عبد مناف بن ہلال بن عمار بن عامر بن صعصعہ تھا۔(1) شجرۂ نسب خاندانی تعارف کو کہتے ہیں۔حضرت زینب کو ہلالیہ