حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 31
حضرت زینب 31 جب تمام مال تقسیم ہو چکا تو دعا کی۔د, خدایا اس سال کے بعد میں عمر کے عطیہ سے فائدہ نہ 66 اُٹھاؤں۔‘ (20) چنانچہ آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور اسی سال آپ کا انتقال ہو گیا۔حضرت زینب بنت جحش نے 53 سال کی عمر میں 20ھ میں وفات پائی۔وفات کے وقت سوائے ایک مکان کے اور کچھ نہ چھوڑا جو ولید بن عبد المالک نے 50 ہزار درہم میں اُن کے رشتہ داروں سے خرید کر مسجد نبوی میں ملا دیا۔امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر فاروق نے نماز جنازہ پڑھائی۔حضرت عمر کی خواہش تھی کہ قبر میں میت اتارنے کی سعادت حاصل کریں لیکن امہات المؤمنین کا ارشاد تھا کہ انہیں قبر کے سپرد وہی افراد کریں گے جو زندگی میں ان کے پاس آتے جاتے تھے یعنی جن سے شرعاً پر دہ نہ تھا۔چنانچہ اسامہ بن زید محمد بن عبد اللہ بن جحش ، عبد اللہ بن احمد محمد بن طلحہ بن عبداللہ نے حضرت زینب کو جنت البقیع میں قبر میں اُتارا۔جب نعش قبر میں اُتاری جانے لگی تو کپڑا تان کر پردہ کر لیا گیا۔آپ کی وفات کے دن شدید گرمی تھی اس لئے حضرت عمر فاروق، نے جہاں قبر گھر رہی تھی خیمہ