حضرت زینب ؓ بن جحش

by Other Authors

Page 25 of 39

حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 25

حضرت زینب 25 چنانچہ ایک روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ سردار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب ہم ازواج آپس میں کسی کے گھر پر جمع ہوتیں تو دیوار پر ہم اپنے ہاتھ خوب کھینچ کر رکھتیں اور 66 نا پا کرتیں تھیں۔اس سے ہمیں انداز و ہوا کہ حضرت سودہ ہم میں سب سے زیادہ لمبی ہیں لہذا ان ہی کے ہاتھ بھی سب سے زیادہ لیے تھے۔“ ام المؤمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے حضرت سیدہ زینب بنت جحش کا انتقال ہوا تو اس وقت ہم نے سمجھا کہ لمبے ہاتھوں سے مُراد صدقہ و خیرات اور فیاضی تھی۔جسمانی ڈیل ڈول نہ تھا۔کیونکہ حضرت سیدہ زینب بہت دھان پان اور چھوٹے قد کی تھیں۔66 حضرت زینب ایک دستکار تھیں اور اپنی محنت سے کما کر بے حد صدقہ و خیرات کیا کرتی تھیں۔(11) ائم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ "زینب" سے بڑھ کر کوئی عورت میں نے نہیں دیکھی جو اپنی جان کو محنت میں کھپا کر مال کماتی اور صدقہ کر دیتی ہو اور اس کے ذریعہ سے اللہ کا قرب حاصل کرتی ہو۔“ پھر حضرت عائشہ صدیقہ آپ کے صدق و صفا اور حق گوئی