حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 17
حضرت زینب 17 طبیعت میں بہت فرق تھا اور اس مزاج کے مختلف ہونے کی وجہ سے آئے دن دونوں میں اختلافات ہونے لگے۔یہاں تک کہ حضرت زید نے محسوس صلى الله کیا کہ اب ان کا اکٹھے گزارہ نہیں ہوسکتا تو انہوں نے پیارے آقا سے جا کر طلاق کی اجازت مانگی لیکن پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے اس رشتہ کو نبھانے اور طلاق نہ دینے کا مشورہ دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت کی وجہ یہ تھی کہ اول تو اصولاً آپ طلاق کو نا پسند فرماتے تھے۔چنانچہ ایک موقع پر فرمایا۔ساری حلال چیزوں میں سے طلاق خدا تعالیٰ کو زیادہ نا پسند وو ہے۔‘ (4) مگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کو تقوی کی نصیحت کر کے طلاق دینے سے منع فرمایا اور آپ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت کے سامنے سر جھکا کر گھر واپس آگئے۔مگر اکھڑی ہوئی طبیعتوں کا ملنا مشکل تھا اور جو بات نہ بنی تھی نہ بنی اور کچھ عرصہ کے بعد حضرت زید نے طلاق دے دی۔(5) طلاق کے بعد جب حضرت زینب کی عدت ختم ہو چکی تو اُن کی شادی کے متعلق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پھر وحی نازل ہوئی کہ آپ کے