حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 18
حضرت زینب 18 انہیں خود اپنے عقد یعنی نکاح میں لے لیں۔اور اس خدائی حکم میں تین حکمتیں تھیں۔ایک تو یہ کہ اس طرح حضرت زینب کی دلداری ہو جائے گی اور دوسری یہ کہ طلاق یافتہ عورتوں کے ساتھ شادی کرنا مسلمانوں میں بُرا نہ سمجھا جائے گا۔اور تیسری حکمت یہ تھی کہ اگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منہ بولے بیٹے کی طلاق یافتہ بیوی سے شادی کر لیں گے تو اس بات کا مسلمانوں میں عملی اثر ہو گا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا اور نہ اس پر حقیقی بیٹوں والے احکام جاری ہوتے ہیں۔اور پھر اس کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں اس طرح کر دی فرمایا:۔نہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ تھے نہ ہیں نہ ہوں گے۔لیکن اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النعیقین ہیں۔“ 66 (الاحزاب : ۴۱ ) گویا خدا تعالیٰ نے یہ وضاحت کر دی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حقیقی بیٹا نہیں اور حضرت زیڈ چونکہ منہ بولے بیٹے ہیں اس لئے ان کو حقیقی بیٹے والی حیثیت حاصل نہیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے عرب کی جاہلانہ رسم کو پورے طور پر مٹانے کے لئے فرمایا:۔