حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 19
حضرت زینب وو 19 جب زید نے زینب سے قطع تعلق کر لیا تو ہم نے زینب کی شادی تیرے ساتھ کر دی تا کہ مؤمنوں کے لئے اپنے منہ بولے بیٹوں کی طلاق یافتہ بیویوں کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی روک نہ رہے بعد اس کے کہ وہ منہ بولے بیٹے اپنی بیویوں کے ساتھ تعلق توڑ لیں اور خدا کا یہ حکم اسی طرح پورا ہونا تھا۔‘ ( الاحزاب : ۳۸) ( ترجمه از سیرت خاتم النبین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے) الغرض اس خدائی وحی کے نازل ہونے کے بعد جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی خواہش اور خیال کا قطعاً کوئی دخل نہیں تھا پﷺ نے زینب کے ساتھ شادی کا فیصلہ فرمایا اور پھر زیڈ کے ہاتھ ہی زینب کو شادی کا پیغام بھیجا۔(6) چنانچہ جب حضرت زیڈ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام حضرت زینب کو دیا تو آپ نے جواب دیا کہ میں بغیر استخارہ کئے کوئی رائے قائم نہیں کرتی۔اور پھر استخارہ میں تسلی ہونے کے بعد ہاں کر دی۔حضرت زینب کی یہ شادی ۵ ہجری کو ان کے بھائی ابو احمد بن جحش نے کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے 400 درہم اُن کا مہر باندھا اور اس طرح یہ نیک بخت خاتون پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں داخل