حضرت زینب ؓ بن جحش

by Other Authors

Page 11 of 39

حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 11

حضرت زینب 11 عاصم بن ثابت بن ابی اصلح انصاری نے ان کے سارے خاندان کو اپنا مہمان بنایا اور جب پیارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان انکوات" یعنی بھائی چارے کا رشتہ الله قائم کر کے ان کو بھائی بھائی بنا دیا۔مذہب اسلام نے جہاں ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کرنے اور ہر برائی سے بچنے کی تاکید کی ہے وہاں اسلام کا ایک اور بھی بہت بڑا مقصد تھا اور وہ یہ تھا کہ اُس وقت لوگوں کے درمیان جو جاہلیت کے زمانے کی باتیں اور رسمیں تھیں ان کو بھی ختم کرنا چاہیے۔مثلاً اُس وقت لوگوں میں غریبی ، امیری، ذات پات، رنگ ونسل اور خاندانوں کی اور بیچ بیچ کی بڑی اہمیت تھی۔لیکن جب ہمارے پیارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انہوں نے آ کر لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلایا اور نیکی اور بدی کا فرق سمجھایا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:۔اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَنقُكُمُ (الحجرات : ۱۴) یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت دار وہ ہے جو متقی ہے۔منتقی" کا مطلب ہے پر ہیز گار اور پر ہیز گار کا مطلب ہے خدا تعالی سے ڈرنے والا اور خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والا۔یعنی بند و وہ کام