حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 27
حضرت زینب 27 مدینہ کے فقراء و مساکین میں سخت بے چینی پھیل گئی جس کا اظہار ہی پھیل گی جس کا اظہار حضرت عائشہ نے یوں فرمایا کہ:۔وو وہ نیک بخت بے مثل خاتون چلی گئیں اور یتیموں اور بیواؤں کو بے چین کر گئیں۔" (13) حضرت عائشہ کو حضرت زینب کی وفات کا بے حد صدمہ ہوا۔آپ حضرت زینب کے اوصاف یوں بیان کرتی ہیں کہ :۔میں نے کوئی عورت زینب سے زیادہ دیندار، زیادہ پرہیز گار، زیادہ راست گفتار ( ہمیشہ سچ بولنے والی ) ، زیادہ فیاض ( کھلے دل سے غریبوں کی مدد کرنے والی ) مخیر ( بہت خیرات کرنے والی ) اور خدا کی رضا جوئی میں زیادہ سرگرم نہیں دیکھی۔فقط مزاج میں ذرا تیزی تھی جس پر ان کو بہت جلد ندامت ( شرمندگی ) بھی ہوتی تھی۔" (14) حضرت عائشہ سے ہی ایک روایت ملتی ہے جس میں آپ فرماتی ہیں:۔اللہ زینب بنت جحش پر رحم کرے۔واقعی ان کو دنیا میں بے نظیر مرتبہ حاصل ہوا۔اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو بیاہ دیا اور اُن کے سبب سے قرآن کی بعض آیتیں اُتریں۔(15)