حضرت زینب ؓ بن جحش

by Other Authors

Page 7 of 39

حضرت زینب ؓ بن جحش — Page 7

حضرت زینب 7 جب شروع شروع میں مکہ کے نیک صفت لوگوں نے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر اسلام کو قبول کر لیا اور خدا تعالی کی رضا اور خوشنودی کو پانے کے لئے دن رات خدا تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں پر عمل کرنے لگے یعنی بُرے کاموں کو چھوڑ کر ہر نیک کام کرنے لگے اور پانچ وقت کی نمازیں پڑھنے لگ گئے ، قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگ گئے ، جھوٹ کو چھوڑ کر سچ بولنے لگے ،شراب پینا چھوڑ دی ، جو اکھیلنا چھوڑ دیا ، لغو گانے گانے اور سننے چھوڑ دیئے اور ہر وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ کر نیک باتیں سننے اور کرنے لگ گئے۔مکہ کے لوگ جو جھوں کی پوجا کرتے تھے اور ایک خدا کو نہیں مانتے تھے اور دنیا کی ہر برائی کو وہ اپنے لئے جائز سمجھتے تھے ان کو مسلمانوں کی یہ بات پسند نہ آئی کہ وہ اپنے باپ دادا کی جاری کردہ رسمیں اور بُرائیاں چھوڑ دیں۔مکہ کے کافروں کے سرداروں نے اس میں اپنی بے عزتی محسوس کی کہ لوگ اُن کی بات نہ مانیں بلکہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانیں۔لیکن چونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کے ایک سردار کے ہی بیٹے اور پوتے تھے اس لئے سردارانِ ملکہ شروع شروع میں الله آپ ﷺ کو زیادہ تنگ نہیں کرتے تھے۔لیکن آپ میے کے ماننے والوں کو