ظہورِ امام مہدی ؑ

by Other Authors

Page 91 of 97

ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 91

نہیں کہ ایسا کوئی شخص آئے جو امام مہدی ہونے کا دعوی کرے۔نہ یہ ضروری ہے کہ لوگوں کو اس کے مہدی ہونے کا علم ہو۔بلکہ عین ممکن ہے کہ اسے خود بھی معلوم نہ ہو کہ مہدی ہے۔اور وہ بغیر کسی دعوی کے اپنے خدا کے حضور پہنچ جائے۔البتہ اس کی وفات کے بعد اس کے کاموں اور کارناموں کو دیکھ کر لوگ سمجھ جائیں گے کہ وہی مہدی تھا۔اس طبقہ و خیال کے بڑے ترجمان بانٹی جماعت اسلامی جناب سید ابوالاعلیٰ مودودی ہیں۔پرویز صاحب کے صریح مخالفانہ اور صیح و مہدی کی آمد کے قطعی منافی خیالات و بیانات طلوع اسلام کی جلدوں کے علاوہ اُن کی تصنیفات خصوصا ” شاہکار رسالت اور تحریک احمدیت۔ختم نبوت میں مذکور ہیں۔اور جناب مودودی صاحب کے خیالات ان کی کتاب ” تجدید و احیاء دین سے واضح ہیں۔اُن کے خیالات سے ایسا گمان ہوتا ہے کہ وہ خود مقام مہدی پر فائز ہیں لیکن اس کا اعلان ضروری نہیں سمجھتے۔البتہ اُن کی وفات کے بعد لوگ خود ہی سمجھ جائیں گے۔وہ لکھتے ہیں :۔نہ میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنے مہدی ہونے کا اعلان کرے گا۔بلکہ شاید اُسے خود بھی اپنے مہدی ہونے کی خبر نہ ہو اور اس کی موت کے بعد اس کے کارناموں سے دنیا کو معلوم ہوگا کہ یہی تھا خلافت کو منہاج النبوۃ پر قائم کرنے والا جس کی آمد کا مردہ سنایا گیا تھا“۔(تجدید و احیاء دین صفحہ ۳۳) انکار کا سبب ظہور امام مہدی سے بالواسطہ اور بلا واسطہ انکار دونوں باطل نظریے ہیں۔کیونکہ ظہور مہدی پر امت محمدیہ کا ہمیشہ اتفاق رہا ہے۔اس انکار کا اصل سبب مایوسی ہے۔کیونکہ ساری علامتیں پوری ہو جانے اور موعود وقت گزرنے کے باوجوداگر مہدی نہیں آئے تو پھر