ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 45
و کامل انسانوں کے بغیر سوسائیٹی معراج کمال تک نہیں پہنچ سکتی۔۔۔۔۔۔۔ہمیں 66 معلم بھی چاہیے اور پیغمبر بھی۔۔۔غالبا میں ایک مسیح کی ضرورت ہے۔(اقبال نامه صفحه ۴۶۲، ۴۶۳) مرتبہ شیخ عطاء اللہ صاحب ایم۔اے شعبہ معاشیات ،علیگڑھ) ۵۔بابا گورو نانک رحمتہ اللہ علیہ جن کو سکھ حضرات اپنے مذہب کا بانی سمجھتے ہیں ، آپ کا ارشاد مکرر درج ہے۔فرمایا: 66 آون اُٹھہتر ے جاون ستانوے ہو ر بھی اُٹھ سی مرد کا چیلا۔“ ( گرنتھ صاحب ، ننگ محله صفحه ۱۳۷) یعنی ۱۸۷۸ سے ۱۸۹۷ ایلا ۱۸۲ء سے ۱۸۴۰ ء تک کا درمیانی عرصہ وہ ہے جب ایک خاص مرد کا چیلا ظاہر ہوگا۔۔مسلمان تو امام مہدی کی آمد چودھویں صدی ہجری کے آغاز پر مانتے ہیں۔سوامی بھولا ناتھ جی اپنے موعود کو اسی وجود میں تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :- ”ہندو کہتے ہیں کہ وہ پورن برہم نش کلنک اوتار دھارن کریں گے۔مسلمانوں کا وشواس ہے کہ امام مہدی کا پرا در بھاؤ ہوگا۔سکھوں کا وشواس ہے کہ کلکی اوتار ہوگا۔اور عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ایشور سے ایک ہو کر پدھاریں گے۔پرنتو اب یہ جاننا شیش ہے کہ ساری ستائیں پر تھک پر تھک ہوں گی یا ایک ہی ! اس کا اثر یہ ہے کہ نہیں، یہ ایک ہی ہوں گی۔ہندو اسے اپنی درشٹ سے دیکھیں گے۔مسلمان اپنی سے سکھ یا عیسائی اسے اپنی درشٹ سے دیکھیں گے۔“ (رسالہ ست یک ستمبر ۱۹۴۱ء صفحه ۱۳) تاں مرد نے پچھیا گورو جی! بھگت کبیر جیہا کوئی ہور بھی ہوئیا اے؟ سری گورونانک ۴۴۵