ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 41
۲۶۔جناب سید میر عبدالحئی صاحب ”حدیث الغاشیہ میں فرماتے ہیں کہ :- امام مہدی علیہ السلام چودھویں صدی کے سال ہفتم میں ظاہر ہوں گے جو کہ ۱۳۰۷ ہجری بمطابق ۸۸۹اء ہے۔“ ۲۷۔خواجہ حسن نظامی صاحب نے ۱۹۱۲ ء میں کہا کہ :۔آفتاب مہدویت اس قدر طلوع کے قریب آ گیا ہے کہ اس کی کرنیں نظر آنے لگی ہیں۔“ (مہدی کے انصار اور اُن کے فرائض صفحہ ۲۰) ۲۸۔صاحب نورالانوار نے لکھا کہ:۔اب ۲۷۴ ہجری ہے کہ یہ تمام نشانیاں بکمال پوری ہو چکی ہیں۔بلکہ کئی درجہ زیادہ (صفحه ۱۳۹) یعنی ظہور مہدی کی سب نشانیاں پوری ہوگئی ہیں۔اور ۲۷۴ ہجری تیرھویں صدی کا اخیر ہے اس سے ظاہر ہے کہ اب وقت ظہور قریب ہے۔۲۹۔رسالہ انجمن تائید اسلام کے ایک مضمون میں لکھا گیا کہ :- حدیثوں میں مریم و ابن مریم آیا ہے کہ وہ صدی کے سر پر آئے گا۔اور چودھویں صدی کا مجد دہوگا۔(انجمن تائید اسلام اپریل ۱۹۲۰ صفحه ۱۲) ۳۰۔حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ کے مشہور قصیدہ بنام "تحفة المهتدین فی بیان اسماء المجددین“ کی شرح میں شیخ محمد بن الجرجاوی المالکی نے ایک عربی قصیدہ لکھا۔اس قدیم عربی قصیدہ پر مشتمل کتاب غیر مطبوعہ ہے اور حکومت مصر کی سرکاری لائبریری ودار الكتب المصر یہ القاہرہ میں محفوظ ہے۔اس میں تیرہ صدیوں کے محمد دین کے ذکر کے بعد شیخ الجرجاوی نے چودھویں صدی کے بارے میں عجیب معنی خیز شعر لکھا ہے۔۴۴۱