ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 40
عنوان سے لکھتے ہیں :۔اندر صرفی اگر بمانی زنده ملک و ملت و دیس برگردو (صفحه ۲۱۵) کہ سال صرفی میں اگر تو زندہ رہا تو ملک، بادشاہت اور ملت و دین میں انقلاب آجائے گا۔صرفی کے اعداد بحساب ابجد ۱۲۹۰ ہجری ہوتے ہیں۔۲۴۔خواجہ حسن نظامی صاحب بیان کرتے ہیں کہ :- (امام مہدی کا ظہور صفحہ ۴۱۷) حضرت امام ابن عربی نے ۳۳۵ ہجری میں ظہور مہدی کی خبر دی ہے۔“ (مہدی کے انصار اور ان کے فرائض صفحہ ۳۹) ۲۵۔مولوی حمید اللہ صاحب ملا سوات لکھتے ہیں کہ : میں بحکم آیت وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ أَثِمٌ قَلْبُهُ۔خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں کہ حضرت صاحب کوٹھ والے ایک دو سال اپنی وفات سے پہلے یعنی ۲۹۲ ھ یا ۱۲۹۳ ہجری میں اپنے خواص میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہر ایک باب سے معارف اور اسرار میں گفتگو شروع تھی۔ناگاہ مہدی معہود کا تذکرہ درمیان میں آگیا۔فرمانے لگے کہ مہدی معہود پیدا ہو گیا ہے مگر ابھی ظاہر نہیں ہوا ہے۔اور قسم بخدا کہ یہی اُن کے کلمات تھے۔اور میں نے سچ سچ بیان کیا ہے۔نہ ہوائے نفس سے اور بجز اظہار حق اور کوئی غرض درمیان نہیں۔اُن کے منہ سے یہ الفاظ افغانی زبان میں نکلے تھے۔چہ مہدی پیدا شوے دے۔وقت ظہور ندے۔“ یعنی مہدی موعود پیدا ہو گیا ہے لیکن ابھی ظاہر نہیں ہوا۔‘ ( تحفہ گولڑویہ صفحہ ۳۷) ۴۴۰