ظہورِ امام مہدی ؑ

by Other Authors

Page 35 of 97

ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 35

ہے۔چنانچہ نبی الکرامہ صفحہ ۳۹۳ پر ہے:- حج مراد بایں دوصد سال از الف ہجرت بود۔چنانکه بعض از اہل علم تاویل ظہور الآيت بعد الباترن ہم چنین کرده اند ۵۔حضرت حافظ برخوردار ساکن چٹی شیخاں ضلع سیالکوٹ نے اپنی کتاب انواع کے باب نزول عیسی میں لکھا ہے۔چھے اک ہزار دے گزرن ترے سو سال حضرت مہدی ظاہر ہوسی کرسی عدل کمال۔جناب قاضی ارتضی علی خان نے اپنے رسالہ ”مہدی نامہ“ کے صفحہ ۲ پر امام مہدی کا زمانہ تیرھویں صدی ہجری سے پندرھویں صدی ہجری قرار دیا ہے۔۷۔مولوی حکیم سید محمد حسین مرحوم رئیس امروہہ نے بھی مہدی کے ظاہر ہونے کا زمانہ ۳۰۰ ہجری لکھا ہے۔( کواکب ڈریۃ صفحہ ۱۵۵)۔جمال پور کے مشہور صوفی مجزوب حضرت گلاب شاہ نے اے ! ہجری میں خبر دی کہ عینی جو آنے والا تھا وہ پیدا ہو گیا ہے۔‘“ ( نشان آسمانی صفحہ ۲۱) ۹۔حضرت خواجہ حسن نظامی دبیر حلقہ نظام المشائخ دہلی نے ایک کتا بچہ ” شیخ سنوسی اور ظہور مهدی آخر الزمان کے نام سے شائع کیا تھا۔انہوں نے لکھا کہ تمام عالم عرب اس زمانہ میں امام مہدی علیہ السلام کا انتظار کر رہا ہے۔اور سب کے اندازے یہی ہیں کہ چودھویں صدی کے سر پر ہی ظاہر ہوں گے۔اپنے عربی ممالک کے دورہ کے دوران بعض علماء عرب سے اپنی ملاقات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں :۔کیا عجب ہے کہ یہ وہی وقت ہو اور ۱۳۳۰ ہجری میں سنوسی کی خبر کے مطابق حضرت امام مہدی کا ظہور ہو جائے۔اور اگر وہ وقت ابھی نہیں آیا تو یہ ہجری تک ۴۳۵