ظہورِ امام مہدی ؑ

by Other Authors

Page 17 of 97

ظہورِ امام مہدی ؑ — Page 17

اُسے کہے گا ، اے میرے سردار! تیری بات مقبول ہے اور تیرا کام جائز ہے۔پس وہ آپ کے چہرے کو اپنے ہاتھ سے مسح کرے گا ( یعنی اُسے برکت دے گا ) مندرجہ بالا روایت کے بعد بڑی تفصیل سے آگے یہ روایت درج ہے کہ :۔امام مہدی آکر سب نبیوں کے صحیفے سنائے گا تو لوگ کہیں گے ، خدا کی قسم ! یہی سچے صحیفے ہیں۔ہم نہیں جانتے تھے۔اسی طرح وہ (مہدی) قرآن پڑھے گا۔پس مسلمان کہیں گے خدا کی قسم! یہی سچا قرآن ہے جسے اللہ نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتارا تھا اور جو ہم سے ساقط ہو گیا تھا۔( بحارالانوارجلد ۱۳ صفحہ ۲۰۳) بہر حال شیعہ وسنی لڑیچر کی رو سے امام مہدی علیہ السلام پر وحی کا نازل ہونا اور عرشِ الہی سے اس کا زندہ تعلق قائم ہونا ظاہر ہے۔وقت ، علاقہ اور علامات سرور کائنات رسالت مآب حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مہدی علیہ السلام کا صرف مقام ہی بیان نہیں کیا بلکہ امتیوں کی راہنمائی کے لئے اشارات اور پیشگوئیوں کے ذریعے: ظہور امام مہدی کا وقت کے ظہور امام مہدی کا علاقہ اور ظہور امام مہدی کی علامات و نشانیاں بھی بیان فرما دیں۔ان پیشگوئیوں اور اشارات کے مطابق حضرت امام مہدی کے ظہور کا وقت تیرھویں صدی ہجری کا آخر یا چودھویں صدی ہجری کا آغاز تھا۔اس کا علاقہ مشرق یا ہندوستان کہا گیا۔اہم علامتوں میں سے چاند سورج کا رمضان میں گرہن، عالم اسلام کا {1}