یادوں کے نقوش — Page 81
“ 131 66 چھ سات سال کی تھی کہ اس کی والدہ محترمہ میری پہلی بیوی محتر مہ زینب بیگم صاحبہ وفات پا گئی تھیں۔میرے تینوں بے ماں کے بچے اپنی دوسری والدہ ، میری موجودہ رفیقہ حیات محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ کی آغوش میں پروان چڑھے عزیزہ امتہ اللہ پندرہ سال تک جماعت کی مستورات کے واحد ماہنامہ مصباح کی مدیر رہی۔اللہ تعالی نے عزیزہ کوتحریر کا ملکہ بھی بخشا تھا۔بہت اچھے مضامین لکھتی تھی اس کو قوت گویائی بھی عطا فرمائی تھی۔“ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مزید لکھتے ہیں۔عزیزہ کی شادی میرے شاگر د مکرم حکیم خورشید احمد صاحب شاد مولوی فاضل سے 1945 ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی تحریک سے ہوئی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میاں بیوی میں نہایت اچھے تعلقات تھے۔ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا جس کا احساس ماحول کی وجہ سے بعض دفعہ خاص طور پر عزیزہ کو ہوتا تھا۔بہر حال مشیت ایزدی اسی طرح تھی۔“ آپ دونوں قابل احترام بزرگوں نے جب اپنے وقت میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان دیا تو ہر دو احباب نے پنجاب یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی۔آپ کی دوسری شادی 1961ء میں محترمہ رضیہ سلطانہ صاحبہ دختر حضرت شیخ اللہ بخش صاحب ریٹائر ڈ انسپکٹر ایکسائز بنوں کے ساتھ ہوئی۔مکرم حکیم صاحب کے سر حضرت شیخ اللہ بخش صاحب ان خوش نصیب رفقاء میں سے تھے جن کا ذکر خیر حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے مورخہ 27 اگست 2000ء کو جلسہ سالانہ جرمنی کے اختتامی خطاب میں فرمایا۔جن رفقاء حضرت مسیح موعود کا ذکر حضور نے فرمایا، ان میں حضرت شیخ صاحب کا ذکر سب سے پہلے تھا۔حضرت خلیفہ اسی الرائع نے حضرت شیخ صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔“ 132 آپ کو دسمبر 1905ء میں تحریری بیعت کی سعادت ملی۔اپریل 1906ء میں دستی بیعت اور زیارت کی سعادت پائی۔ان کے والد صاحب کی شادی کے بعد 12 سال تک کوئی اولاد نہ تھی۔ایک روز انہوں نے بڑے خشوع وخضوع سے دعا کی اے خدا جس طرح تو نے حضرت ابراہیم کو بڑھاپے میں اولا وعطا کی۔اسی طرح مجھے بھی نرینہ اولاد عطا کر “ تب حضرت اللہ بخش صاحب کی پیدائش ہوئی۔آپ بتاتے ہیں کہ بچپن میں مجھے کوئی مذہبی تعلیم نہ ملی۔چھوٹی عمر میں سکول میں داخل ہوا۔جب انٹر میں پہنچا تو اس وقت میری عمر 17 سال تھی۔قدرتا میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ اپنے مذہب کے متعلق کچھ واقفیت پیدا کرنی چاہئے۔چنانچہ میں نے ایک مولوی صاحب سے قرآن شریف پڑھنا شروع کیا اور پھر مترجم قرآن شریف کا مطالعہ کرنے لگا۔آخری الفاظ جو بانی سلسلہ سے عشق و محبت کا غیر معمولی اظہار ہے ملاحظہ فرمائیے۔مکرم و محترم شیخ اللہ بخش صاحب کے الفاظ میں مجھے اس وقت سخت قلق ہوا جب بدر اخبار میں حضرت مسیح موعود کی وفات کی خبر پڑھی۔مذکورہ تحریر فارسی کے اس شعر پرختم ہوئی۔“ 66 حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد روئے گل سیر نہ دیدیم و بہار آخر شد خلاصہ خطاب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع روزنامه الفضل 13 ستمبر 2000ء) حضرت حکیم خورشید احمد صاحب کتنے خوش قسمت و خوش نصیب تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے پہلے خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطا صاحب اور پھر حضرت بانی سلسلہ کے عاشق اور رفیق حضرت شیخ اللہ بخش صاحب کی فرزندی کا اعزاز عطا فر مایا۔