یادوں کے نقوش — Page 69
“ حروف مقطعات پر تحقیق 107 حضرت خلیفۃ امسیح الرابع نے 10 جنوری 1987 ء کو ایم ٹی اے پر والد محترم کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا۔ایک احمدی سکالر مکرم مولوی ظفر محمد صاحب تھے جو حروف مقطعات کی تحقیق کا عمدہ ذوق رکھتے تھے اور بڑی محنت سے ان پر تحقیق کیا کرتے تھے انہوں نے مقطعات کی رو سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ المسح الثالث ہوں گے۔چونکہ خلیفہ وقت کی زندگی میں کسی اور کی خلافت کے بارہ میں سوچنا یا نام لینا منع ہے۔انہوں نے اپنی تحقیق کو لکھ کر بند کر کے حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو دے کر یہ استدعا کی کہ میری وفات کے بعد اس کو کھولا جائے یا جب میں آپ سے درخواست کروں۔بعد میں یہ ثابت ہوا کہ یہ پیشگوئی صحیح تھی۔مولوی ظفر محمد صاحب ایک دن میرے پاس تشریف لائے۔اس وقت میں وقف جدید میں خدمات سرانجام دے رہا تھا۔مولوی صاحب نے مجھے بتایا کہ میں نے چوتھے خلیفہ کا نام بھی معلوم کر لیا ہے لیکن میں آپ کو بتاؤں گا نہیں ( جبکہ اپنی ڈائری میں انہوں نے لکھ لیا تھا)۔جب خدا تعالیٰ نے مجھے خلافت عطا کی تو ان کی وفات اس سے قبل ہو چکی تھی تو میں نے ان کے بچوں خصوصاً ان کے بڑے بیٹے سے کہا کہ ڈائری کا وہ صفحہ تلاش کریں کہ کس قرآنی سورۃ سے انہوں نے یہ اخذ کیا ہے۔ان کے بڑے بیٹے نے مجھے بتایا کہ ان کی ایک ڈائری تھی جو اپنے پاس رکھا کرتے تھے وہ اب ہمیں مل نہیں رہی۔میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ کس سورۃ اور کون سے حروف مقطعات سے انہوں نے اخذ کیا ہے کہ چوتھے خلیفہ کون ہوں گے۔“ 108 فرمایا جب میں ماضی کے واقعات پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ جب وہ میرے پاس آئے تو ان کی آنکھوں میں ایک چمک تھی ایک روشنی تھی وہ مجھے خلیفہ رابع کے بارہ میں بتانا چاہتے تھے اس کے باوجود انہوں نے اظہار نہ کیا۔مزید فرماتے ہیں: اس سے میرا نظریہ تقویت پکڑتا ہے کہ واقعی اس میں آنے والے زمانہ کے لئے بھی پیشگوئیاں ہیں جو اپنے وقت پر پوری ہوتی ہیں، حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ ان حروف مقطعات کو مختلف لوگوں نے مختلف انداز میں سجھنے کی کوشش کی ہے اور مختلف نتائج اخذ کئے ہیں۔حضرت مسیح موعود کی تعلیمات اور ارشادات کا غیر خواہ کچھ ہی مطلب نکالیں لیکن احمدی اپنے ظرف اور بساط کے مطابق ان تعلیمات سے فیض پاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مجھے یقین ہے کہ ظفر محمد صاحب نے حروف مقطعات کے بارہ میں ایسا طریق اخذ کیا جس سے مذکورہ بالا دو باتیں قبل از وقت بتا ئیں جو صحیح ثابت ہوئیں۔آپ کی شاعری اس سلسلہ میں کچھ عرض کرنے سے قبل آپ کے دواشعار پیش خدمت ہیں جو اس پہلو سے ان کے شاعرانہ فکر کا احاطہ کرتے ہیں۔مشاعرے کو نہ رب یا جب تک دماغ لے کے نہ ہے تائید سود شاعری میں نہ دین حق میں اپنا قدم مضمون لو اپنا گھسے قلم ہمارا قلم چلے اگر چہ آپ بفضلہ تعالیٰ قادر الکلام شاعر تھے۔نہ صرف اردو بلکہ عربی اور فارسی زبان میں بھی آپ کو فن شعر گوئی کا ملکہ حاصل تھا۔ہر سہ زبانوں میں آپ کا کلام سلسلہ ء حقہ کے رسائل و اخبارات میں بھی بکثرت شائع ہوتارہا ہے اور ہوتا رہتا