یادوں کے نقوش

by Other Authors

Page 66 of 137

یادوں کے نقوش — Page 66

“ 103 کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کے اندر ایسے جذبات پیدا کئے کہ حضرت مسیح موعود کے ارشاد کے مطابق آپ کا بیشتر وقت قرآن پاک پر تدبر اور غور و فکر کرتے ہی گزرا۔جس کے نتیجہ میں آپ پر نئے نئے مضامین کھلتے چلے گئے۔آپ اگر چہ قرآن پاک کے با قاعدہ حافظ تو نہ تھے لیکن کثرت مطالعہ اور مسلسل غور و فکر سے آپ کو قرآن مجید کا فی حد تک از بر ہو چکا تھا۔آپ اکثر اپنے طلباء اور عزیزوں کو یہ فرمایا کرتے آپ قرآن پاک میں سے کسی آیت کا ترجمہ پڑھیں میں قرآن پاک کی اصل آیت آپ کو سنا دوں گا۔جب عہد پیری میں بینائی کافی کمزور ہوگئی تو آپ نے اپنے اس جذبہ عشق کی تسکین کے لئے قرآن پاک کی مکمل آڈیو کیسٹیں خرید کر سنی شروع کر دیں۔والد محترم کے علم قرآن اور عشق قرآن کا یہ عالم تھا کہ آپ نے یکم اگست 1978ء کو حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کی خدمت میں لکھا کہ ایک دن جب خاکسار حضور کی خدمت میں حاضر تھا تو لفظ ھدھد کے لغوی معنی پیش کرنے کے بعد عرض کیا کہ پندرھویں صدی هدهد میں جماعت احمدیہ کے پاس اپنا براڈ کاسٹنگ اسٹیشن ہوگا کیونکہ لفظ حد ھد سورۃ نمل میں آیا ہے اور اس سورۃ کا تعلق پندرھویں صدی سے ہے۔اس پر قدرے تامل کے بعد حضور نے فرمایا کہ ” آپ نے سب کچھ اپنے دل میں ہی رکھا ہوا ہے۔1974ء کے پر آشوب حالات اور پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے 7 ستمبر والے فیصلہ کے بعد جب معاندین احمدیت کی طرف سے جماعت پر عرصہ حیات تنگ کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیا جاتا تھا۔ان حالات میں یہ بات وہم وگمان میں بھی نہ آسکتی تھی کہ 1978ء میں والد محترم کی علم قرآن کی روشنی میں کہی گئی بات MTA کی شکل میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ یوں پوری ہوگی۔حضور کی اس حوصلہ افزائی کے بعد آپ ے مذکورہ خط اب بھی ہمارے پاس محفوظ ہے نیز اس موضوع پر روز نامہ الفضل 14 دسمبر 1958ء کی اشاعت میں آپ کا تفصیلی مضمون شائع شدہ موجود ہے) 66 “ 104 نے معجزات القرآن ( جو حال ہی میں برادرم مبارک احمد ظفر صاحب کی طرف سے شائع ہوئی ہے) اور دو دوسری کتب ( غیر مطبوعہ ) ”ہمارا قرآن اور اس کا اسلوب بیان اور تیسری ” قرآن زمانے کے آئینہ میں ترتیب دیں جو انشاء اللہ اپنے وقت پر شائع ہوں گی۔معجزات القرآن کے بارے میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب، حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر سابق امیر جماعت احمدیہ فیصل آباد، حضرت مرزا عبدالحق صاحب صوبائی امیر جماعت احمدیہ پنجاب نے اپنی گراں قدر آراء سے نوازا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ معجزات القرآن کی اشاعت سے قبل والد محترم کے علم قرآن کے بارہ میں سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے 15 مارچ 1994ء کولندن میں ایم ٹی اے کی ایک مجلس میں فرمایا ”مولوی ظفر محمد صاحب مرحوم کا میرے ساتھ اگر چہ طالب علمی اور استاد کا رشتہ تو نہ تھا لیکن مجھ سے تعلق بہت گہرا تھا۔قرآن کریم کے اوپر عبور تو کسی کو نہیں ہوسکتا مگر قرآنی مطالب کو سمجھنے کا شوق بہت تھا اور کئی دفعہ بڑے اچھے نکلتے نکال کر لاتے تھے ایک عجیب درویش انسان تھے۔معجزات القرآن کے مسودہ پر حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے یہ تبصرہ فرمایا:۔نمکرم کے مرسلہ مسودہ بنام "معجزات القرآن“ کا خاکسار نے گہری دلچپسی کے ساتھ بالاستیعاب مطالعہ کیا۔آپ نے قرآن کریم کی معجزانہ شان کے جس پہلو پر قلم اٹھایا ہے۔یہ علم قرآن کی ایک ایسی شاخ ہے جس پر آج تک بہت کم لکھا گیا ہے۔اس مسودہ کے مطالعہ سے یہ دیکھ کر طبیعت میں ہیجان پیدا ہو جاتا ہے کہ علوم قرآن کی کائنات میں اس پہلو سے بھی تحقیق اور دریافت کا کتنا بڑا جہان کھلا پڑا ہے۔اور اہل فکر کو جستجو کی دعوت دے رہا ہے۔اس مطالعہ سے مجھے بہت کچھ حاصل ہوا کئی